تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کو طویل عرصے سے جاری ’’نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی کیفیت سے باہر نکلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم لیڈر علی خامنہ ای نے اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی بات چیت جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ تہران کے وحدت ہال میں ’’امین ایران‘‘ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ جنگ کسی بھی صورت میں ایران کے مفاد میں نہیں، تاہم اگر ملک کی سرزمین پر حملہ کیا گیا تو ایران ہرگز ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
جنگ ملک کے مفاد میں نہیں، مگر ایران نہیں کرے گا سرنڈر
صدر پزشکیان نے کہا، ’’ہمیں ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی پالیسی سے باہر نکلنا ہوگا۔ جنگ یقیناً ملک کے مفاد میں نہیں ہے، لیکن اگر ہماری سرزمین اور خودمختاری پر حملہ کیا گیا تو ہم ہرگز پسپائی اختیار نہیں کریں گے اور نہ ہی سرنڈر کریں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ اپنی صدارت کے دوران مرحوم آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں رہبر انقلاب بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ جنگ اور سفارت کاری کے درمیان موجود تعطل کو ختم کیا جانا چاہیے۔ ایرانی صدر کے مطابق بعض مواقع پر سرکاری نشریاتی ادارہ مذاکرات نہ کرنے کا پیغام نشر کرتا تھا، لیکن وہ حکومتی ذمہ داران سے سوال کرتے تھے کہ اگر مذاکرات نہیں ہوں گے تو پھر اس تعطل کا حل کیا ہوگا۔ پزشکیان نے کہا، ’’اسی بنیاد پر رہبر نے مذاکرات اور بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔‘‘ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی واضح ہدایت تھی کہ ’’جاؤ اور اس مسئلے کا حل نکالو۔‘‘
داخلی اتحاد کو کمزور کرنا چاہتا ہے دشمن
صدر پزشکیان نے قومی اتحاد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے مخالفین ملک کے اندر اختلافات پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن نے اپنی تمام منصوبہ بندی داخلی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی بنیاد پر کی ہے۔ ان کے مطابق بمباری اور فوجی طاقت کے ذریعے کسی قوم کو جھکانا ممکن نہیں۔ غزہ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اتنے طویل حملوں کے باوجود غزہ کو سرنڈر نہیں کرایا جا سکا، لہٰذا ایران کو بھی ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ایران ایک ایسی قوم ہے جسے جھکایا نہیں جا سکتا۔‘‘
خواتین کے کردار اور قومی یکجہتی کی تعریف
ایرانی صدر نے گزشتہ 100 دنوں کے دوران ایرانی خواتین کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی سرگرم موجودگی نے ایران کے دشمنوں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین یہ سمجھ رہے تھے کہ ان کے اقدامات سے ایرانی انقلاب کمزور ہو جائے گا، لیکن خواتین کی فعال شرکت نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پزشکیان نے سیاسی، سماجی اور نسلی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی کا مطلب یہ ہے کہ مختلف طبقات وقتی طور پر اپنے بعض مطالبات سے دستبردار ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دیں۔ آخر میں انہوں نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا، ’’ہم ایک باوقار، آزاد اور مضبوط ایران چاہتے ہیں۔ باہمی ہمدردی اور تعاون ہی ملک کو موجودہ بحرانوں اور مشکلات سے نکال سکتا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…
پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…