بین الاقوامی

Middle East Tension: ایران نے پاکستان کے بعد سعودی عرب سے بھی کیا رابطہ، ٹرمپ اور نیتن یاہومیں بھی ٹیلیفونک بات چیت، ایران-امریکہ جنگ سے مشرق وسطیٰ میں حالات سنگین

مشرقِ وسطیٰ (مڈل ایسٹ) میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ ایران اورسعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے ٹیلی فون پرموجودہ صورتحال پربات چیت کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوراسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے بھی خطے کی سیکورٹی اورباہمی تعاون پرگفتگوکی۔ ایران اوراسرائیل کی طرف سے سعودی عرب اورامریکی رہنماوں سے بات چیت کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔ اس طرح سے مشرق وسطیٰ میں پیدا ہوئی تازہ صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ میں رابطہ

ایران کے وزیرخارجہ سید عباس عراقچی اور سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے درمیان ٹیلی فون پربات چیت ہوئی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال اورامریکی فوجی کارروائی کے بعد پیدا ہونے والے حالات پرتفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے موجودہ حالات پر اپنے اپنے مؤقف سے آگاہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کی صورتحال پر آئندہ بھی مشاورت جاری رکھی جائے گی۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایران مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان بھی فون پر گفتگو

دوسری جانب، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہوسے بھی ٹیلی فون پربات کی۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں لیڈران نے خطے کی تازہ صورتحال اور امریکہ اوراسرائیل کے درمیان قریبی تعاون پرتبادلۂ خیال کیا۔ بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ برقراررکھنے پراتفاق کیا۔ صدرٹرمپ نے نیتن یاہوکو خلیجی خطے میں امریکہ کی حالیہ سرگرمیوں سے بھی آگاہ کیا۔

ترکی کے بیانات اورسیکورٹی زون کا معاملہ بھی زیرِ بحث

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق، بنجامن نیتن یاہو نے گفتگوکے دوران ترکی کے صدررجب طیب اردغان اورترک حکام کی جانب سے اسرائیل کے خلاف دیئے گئے بیانات پربھی تشویش کا اظہارکیا۔ انہوں نے اسرائیل کی سرحدوں پر سیکورٹی زون برقراررکھنے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی برادری کی نظریں اب سفارتی کوششوں پرمرکوز ہیں، جبکہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ رابطے حالات کوپرسکون بنانے میں مدد دیتے ہیں یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Adani Power: اڈانی پاور اور ڈروک گرین پاور بھوٹان میں 770 میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور منصوبہ قائم کریں گے

یہ ہائیڈرو پاور منصوبہ وسطی بھوٹان کے جھیمگانگ ضلع میں چامکھرچھو دریا پر قائم کیا…

12 minutes ago

JNU Students on Indefinite Hunger Strike: جے این یو میں طلبہ کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال، یہ ہیں اہم مطالبات

طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…

3 hours ago

Jantar Mantar Protest: جنتر منتر پر اپوزیشن کے احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی سخت، دفعہ 163نافذ

سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…

4 hours ago