بین الاقوامی

Malaysia To Ban Social Media For Children : اب 16 سال سے کم عمر کے بچے سوشل میڈیا کا نہیں کر سکیں گے استعمال، بچوں کی حفاظت کے لیے اٹھایا گیا تاریخی قدم

کوالالمپور: ملیشیا کی حکومت نے بچوں کو سائبر بُلیئنگ، آن لائن فراڈ اور جنسی استحصال جیسے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئے قوانین آئندہ برس سے نافذ کیے جائیں گے اور تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل کریں گے۔

ملیشیا کے وزیر برائے مواصلات فہمی فدضل نے اتوار 23 نومبر کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حوالے سے آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک کے قوانین اور اُن کی پروٹوکولز کا جائزہ لے رہی ہے جنہوں نے کم عمر صارفین پر پابندی کے قوانین پہلے ہی نافذ کر رکھے ہیں۔ وزیر کے مطابق، ڈیجیٹل دنیا میں نوجوانوں کو سائبر بُلیئنگ، مالی دھوکے، انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے جنسی استحصال جیسے خطرات کا سامنا ہے، جس کے خاتمے کے لیے حکومت سخت پالیسی اختیار کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں امید ہے کہ اگلے سال تک تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم حکومت کے اس فیصلے کا احترام کریں گے اور 16 سال سے کم عمر بچوں کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے“۔ وزیر کے مطابق، اگر پلیٹ فارمز نے حکومتی اصولوں پر عمل نہ کیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔

بچوں کے لیے سوشل میڈیا خطرہ کیوں؟
دنیا بھر میں بچوں کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکہ میں ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، گوگل اور میٹا (فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی کارپوریٹ کمپنی) کے خلاف اجتماعی مقدمات دائر کیے گئے ہیں، جن میں الزام ہے کہ یہ پلیٹ فارمز بچوں اور نوجوانوں میں ذہنی بیماریوں، ڈپریشن اور خودکشی کے رجحان کو فروغ دیتے ہیں۔ آسٹریلیا میں بھی آئندہ ماہ سے 16 سال سے کم عمر رجسٹرڈ صارفین کے اکاؤنٹس ختم کرنے کی کارروائی شروع ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر اس پالیسی کی نگرانی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور فرانس، اسپین، اٹلی، ڈنمارک اور یونان ایک مشترکہ عمر شناختی نظام کو آزمانے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ نابالغ صارفین کی بہتر چھان بین ممکن ہو سکے۔

ملیشیا میں سوشل میڈیا لائسنس لازمی
گزشتہ چند برسوں میں ملیشیا نے سوشل میڈیا کمپنیوں پر نگرانی سخت کر دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ آن لائن جوا، مذہب، نسل اور شاہی خاندان کے خلاف نفرت انگیز مواد میں اضافہ تشویشناک ہے۔ نئے قانون کے مطابق، وہ تمام پلیٹ فارم اور میسجنگ سروسز جن کے صارفین کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہے، انہیں اب لائسنس لینا لازمی ہے۔ یہ اصول رواں سال جنوری سے نافذ العمل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور آنے والے وقت میں مزید سخت اقدامات بھی متوقع ہیں۔

 

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

5 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

6 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

6 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

7 hours ago