بین الاقوامی

Iran Israel War: اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کا یوپی کے اس گاؤں سے کیا ہے رشتہ؟ 1830 سے جڑی ہے انسائیڈ اسٹوری

Kintoor village of Barabanki in UP in the headlines amid Israel-Iran war: ان دنوں اسرائیل اورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اورہوائی حملوں کی خبروں نے پوری دنیا میں تشویش پیدا کردی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی دھمکیاں اورمسلسل تباہ کاری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس درمیان ہندوستان کا ایک گاؤں اچانک سرخیوں میں چھا گیا، جس کا اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی کے ساتھ خاص کنکشن اور رشتہ ہے۔ ہم بات کررہے ہیں اترپردیش کے بارہ بنکی ضلع میں واقع کنتورگاؤں کی۔ یہ گاؤں اسرائیل اورایران کی لڑائی کے درمیان خبروں میں چھایا ہوا ہے۔

یوپی کے کنتورگاؤں میں ایران کے لئے خصوصی دعائیں

واضح رہے کہ اترپردیش کے کنتورگاؤں کا 1979 کی اسلامی انقلاب کے معمار اوراسلامی جمہوریہ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی سے گہرا تعلق ہے۔ آیت اللہ خمینی کے اس تعلق نے ایک بارپھردنیا کی توجہ کنتورگاؤں کی طرف مبذول کرائی ہے۔ درحقیقت اس گاؤں کے لوگ اسرائیل اورایران کے درمیان جاری جنگ بند ہونے اورایران میں امن کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔

1830 سے جڑی ہے کہانی

اطلاعات کے مطابق، سال 1830 کے آس پاس کنتورمیں ایک شیعہ مولوی سید احمد موساوی ہوئے تھے۔ انہوں نے برطانوی اقتدارکے دوران اپنی مذہبی تعلیم کے لئے ہندوستان چھوڑدیا اورعراق سے ہوتے ہوئے ایران پہنچ گئے۔ ایران میں انہوں نے اپنی روحانی اورمذہبی تلاش جاری رکھی اوروہیں آباد ہوگئے۔ حالانکہ انہوں نے ہندوستان سے رشتہ نہیں توڑا اوراپنے نام میں ’ہندی‘ جوڑکراپنی ہندوستانی شناخت کو برقراررکھا۔

روح اللہ خمینی کی پیدائش

اس کے بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی نے ایران کے شہرخومین میں شادی کی اوروہیں آباد ہوگئے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے مصطفیٰ ہندی بھی ایک عالم دین بن گئے۔ اس کے بعد سال 1902 میں مصطفیٰ ہندی کے بیٹے روح اللہ خمینی کی پیدائش ہوئی۔ روح اللہ خمینی کو مذہبی تعلیم اپنے دادا اور والد سے وراثت میں ملی تھی۔ ایران میں دھیرے دھیرے روح اللہ خمینی نے شیعہ عقائد اورمغربی مداخلت کی مخالفت کی وجہ سے ایران میں لوگوں میں اپنی شناخت بنانی شروع کردی۔ اس کے ساتھ ہی آیت اللہ خمینی کوعالم دین کے عہدے پرفائزکیا گیا جس سے ان کی آوازمزید بلند ہوگئی۔

شاہ محمد رضا پہلوی کو شکست

اس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے روح اللہ خمینی نے ایک طاقتورسیاسی شناخت قائم کی۔ انہوں نے سال 1960 اور 1970 کی دہائی میں شاہ محمد رضا پہلوی کی بادشاہت کے خلاف خوب احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں انہیں ایران کے لوگوں کی زبردست حمایت ملی۔ سال 1979 میں ایران کے اندر اسلامی انقلاب رونما ہوا، جس نے شاہ محمد رضا پہلوی کی سلطنت کوختم کردیا۔ اس کی وجہ سے شاہ محمد رضا پہلوی کو فیملی کے ساتھ ایران چھوڑنا پڑا۔

کنتور میں ابھی بھی رہتا ہے آیت اللہ خامنہ ای کا خاندان

واضح رہے کہ کنتورکے محل محلہ میں ابھی بھی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی فیملی رہتی ہے۔ اس فیملی میں نہال کاظمی، ڈاکٹرریحان کاظمی اورعادل کاظمی فخرسے خود کو احمد موساوی ہندی کی اولاد بتاتے ہیں۔ ان کے گھرکی دیواروں پرآیت اللہ علی خمینی کی فریم والی تصویریں آج بھی لگی ہوئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

7 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

8 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

8 hours ago