بین الاقوامی

King Charles III: مذہبی احترام اور بین ثقافتی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال،کنگس چارلس سوم نے مسلمان سربراہ مملکت کے احترام میں تبدیل کی شاہی روایت

نئی دہلی: برطانیہ کی شاہی تاریخ میں ایک منفرد اور غیر معمولی لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب کنگ چارلس سوم نے نائجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو کے اعزاز میں روایتی شاہی لنچ منسوخ کر دیا۔ یہ فیصلہ صدر تینوبو کے ماہِ رمضان میں روزہ دار ہونے کے پیش نظر کیا گیا، جسے عالمی سطح پر مذہبی احترام اور بین ثقافتی ہم آہنگی کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

شاہی روایت میں غیر معمولی تبدیلی

ذرائع کے مطابق لندن میں ہونے والے اس سرکاری دورے کا مقصد برطانیہ اور نائجیریا کے درمیان تجارت، سکیورٹی اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ عام طور پر ایسے مواقع پر شاہی دوپہر کا لنچ ایک اہم روایت سمجھی جاتی ہے، جس میں مہمانِ خصوصی کو شاہی پروٹوکول کے تحت مدعو کیا جاتا ہے۔ تاہم اس بار روایت کے برعکس، صرف ایک مہمان کے مذہبی احترام میں پورا شیڈول تبدیل کر دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق شاہی نظام میں اس نوعیت کی تبدیلیاں نہایت کم دیکھنے میں آتی ہیں، جس سے اس فیصلے کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

افطار کے مطابق خصوصی انتظامات

شاہی محل میں تقریب کو مکمل طور پر رمضان کے تقدس کے مطابق ترتیب دیا گیا۔ افطار کے وقت کے مطابق پروگرام کو ایڈجسٹ کیا گیا اور کھانے پینے کی تمام  حلال اشیاء کو ہی دسترخوان پر سجایا گیا۔ اس کے ساتھ ہی شراب یا دیگر غیر مناسب اشیاء کو بھی شامل نہیں کیا گیا، تاکہ مہمان کے مذہبی عقائد کا مکمل احترام کیا جا سکے۔ اس موقع پر شاہی خاندان کی جانب سے مہمان نوازی کے انداز کو خاص طور پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ صرف رسمی اقدام نہیں بلکہ عملی سطح پر مذہبی حساسیت کا مظاہرہ تھا۔

برطانیہ-نائجیریا تعلقات پر زور

اس دورے کے دوران کنگ چارلس سوم نے برطانیہ اور نائجیریا کے تعلقات کو ’’برابری پر مبنی شراکت‘‘ قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر زور دیا۔  انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ مختلف ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان احترام اور ہم آہنگی عالمی امن کے لیے نہایت ضروری ہے۔ دوسری جانب بولا احمد تینوبو کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی روابط کو نئی جہت دینے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مذہبی رواداری کی عالمی مثال

یہ واقعہ نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا میں مذہبی رواداری، باہمی احترام اور ثقافتی ہم آہنگی کی ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق جب عالمی رہنما ایک دوسرے کے عقائد کا اس قدر احترام کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف سفارتی تعلقات مضبوط ہوتے ہیں بلکہ معاشروں میں برداشت اور ہم آہنگی کو بھی فروغ ملتا ہے۔یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید دنیا میں روایت اور احترام ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں اور جب بات مذہب اور عقیدے کی ہو تو چھوٹے اقدامات بھی بڑی علامت بن جاتے ہیں۔

بھارت ایکسپسریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

LPU Phagwara Student Protest: پنجاب کی ایل پی یو میں پھر ہنگامہ، گیٹ بند کیے جانے پر بھڑکے طلبہ، کیمپس میں بھاری پولیس فورس تعینات

لولی پروفیشنل یونیورسٹی (LPU) فگواڑہ میں اتوار کی شام ایک بار پھر ہنگامے کی صورتحال…

9 minutes ago

PM Modi Mann Ki Baat: آملے نے بدلی قسمت! ’من کی بات‘ میں پی ایم مودی نے کہا، پرتاپ گڑھ ’وکل فار لوکل‘ کی مثال

وزیر اعظم مودی نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کی 138ویں…

35 minutes ago

Bihar News: سیلاب متاثرین کے درمیان پہنچے پپو یادو، انتظامیہ پر برہم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر دیا سخت بیان

پپو یادو نے کہا کہ سیلاب جیسی سنگین صورتحال میں انتظامیہ کی ذمہ داری ہے…

44 minutes ago