بین الاقوامی

Japan PM Ishiba announces resignation: انتخابات میں تاریخی شکست کے بعد سیاسی دباؤ میں جاپانی وزیراعظم شیگیرو ایشیبا کا استعفیٰ، ایل ڈی پی کی صدارت بھی چھوڑنے کا کیا اعلان

ٹوکیو: جاپانی وزیراعظم شیگیرو ایشیبا نے اتوار کو لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کی صدارت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ ایشیبا گزشتہ سال اکتوبر میں وزیراعظم کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔ یہ اعلان جولائی میں ہونے والے انتخابات میں حکومتی اتحاد کی تاریخی شکست کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا۔ ایشیبا نے ’ایکس‘ پر لکھا: ’’آج میں نے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ پارٹی کی آئندہ خصوصی قیادت کے انتخاب میں حصہ نہیں لیں گے۔

استعفیٰ کی وجوہات اور پارٹی میں صورتحال

این ایچ کے ورلڈ کے مطابق ان کا یہ فیصلہ پارٹی کے اندر پیدا ہونے والے انتشار کو کم کرنے کے لیے کیا گیا۔ ایشیبا نے بتایا کہ امریکہ کے ساتھ محصولات کے اقدامات پر معاہدہ ہو گیا ہے، جسے وہ اپنے استعفیٰ کی ایک وجہ قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے ایل ڈی پی کے سکریٹری جنرل موریاما ہیروشی کو ہدایت دی کہ پارٹی کے قواعد کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے ضروری کارروائیاں مکمل کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پارٹی جلد نئے صدر کے انتخاب کا عمل شروع کرے۔ ایشیبا نے وزارت عظمیٰ کے دوران مہنگائی پر قابو پانے اور پارٹی میں اصلاحات کا عزم ظاہر کیا تھا، مگر انہیں ایل ڈی پی کے دائیں بازو کے دھڑوں کی شدید مخالفت کا سامنا تھا۔

اگلا وزیراعظم کون ہوگا؟

وزیراعظم شیگیرو ایشیبا نے اتوار کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ ان کی جگہ کون لے گا۔ ایشیبا نے کہا کہ وہ حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے دباؤ میں یہ قدم اٹھا رہے ہیں، کیونکہ ان پر خاص طور پر جولائی میں ہونے والے ایوان بالا کے انتخابات میں شکست کی ذمہ داری لینے کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ایل ڈی پی میں قیادت کی دوڑ شروع ہوگئی ہے، جس میں کامیاب ہونے والے کو پارلیمان میں ووٹ حاصل کرکے وزارت عظمیٰ سنبھالنا ہوگا۔ چونکہ حکومتی اتحاد پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کھو چکا ہے، اس لیے یہ یقینی نہیں کہ ایل ڈی پی کا صدر خود بخود وزیر اعظم بن جائے۔ دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کی قیادت اپوزیشن کے کسی رہنما کے ہاتھ میں جانے کے فی الحال کم امکانات  ہیں۔

لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ امیدوار

سنایی تاکائچی (Sanae Takaichi) – عمر 64 سال

اگر منتخب ہو جاتی ہیں تو یہ جاپان کی پہلی خاتون وزیراعظم ہوں گی۔ تجربہ کار رہنما، سابق وزیر برائے اقتصادی سلامتی اور داخلی امور، اور ایل ڈی پی کی سابق قیادت کی امیدوار رہ چکی ہیں۔ قدامت پسند نظریات اور یاسُوکُنی مندر کے دوروں کے لیے مشہور ہیں۔ معیشت کو سہارا دینے کے لیے اخراجات میں اضافے کی حامی اور بینک آف جاپان کی شرح سود میں اضافے کی مخالف ہیں۔

شنجیرو کوئزومی (Shinjiro Koizumi) – عمر 44 سال

جاپان کے مشہور سیاسی خاندان کے وارث، ممکنہ طور پر جاپان کے سب سے کم عمر وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ سابق وزیر ماحولیات اور موجودہ وزیر زراعت، اصلاحات کے حامی اور پارٹی پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے خواہاں۔ 2019 میں جاپان میں جوہری ری ایکٹرز کے خاتمے کی وکالت کی۔

یوشیماسا ہیاشی (Yoshimasa Hayashi) – عمر 64 سال

موجودہ چیف کابینہ سکریٹری، سابق وزیر دفاع، خارجہ اور زراعت۔ انگریزی زبان میں مہارت رکھتے ہیں اور امریکہ میں تعلیم و تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ بینک آف جاپان کی آزادانہ مالیاتی پالیسی کے احترام کے حامی ہیں۔

اپوزیشن کے ممکنہ امیدوار

یوشی ہیکو نوڈا (Yoshihiko Noda) – عمر 68 سال

سابق وزیراعظم اور آئینی جمہوری پارٹی کے رہنما۔ 2011-2012 میں وزارت عظمیٰ کے دوران صارف ٹیکس کو دوگنا کر کے 10 فیصد تک بڑھانے کا قانون منظور کرایا۔ حالیہ انتخابات میں کھانے پینے کی اشیاء پر ٹیکس میں عارضی کمی کی تجویز دی۔

یویچیرو تاماکی (Yuichiro Tamaki) – عمر 56 سال

ڈیموکریٹک پارٹی فار دی پیپل کے شریک بانی اور تیزی سے مقبول ہونے والے رہنما۔ سابق وزارت خزانہ کے افسر، ٹیکس میں کمی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کے حامی اور غیرملکی زمین خریداری پر سخت قوانین چاہتے ہیں۔

سیاسی اسکینڈلز اور اتحادیوں کی شکست

ایل ڈی پی حالیہ عرصے میں سیاسی فنڈ ریزنگ اسکینڈلز میں الجھی ہوئی تھی۔ اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ایل ڈی پی اور اس کی اتحادی جماعت کومیتو کو نچلے ایوان کے انتخابات میں اکثریت کا نقصان اٹھانا پڑا۔ جولائی میں ایوان بالا کے انتخابات میں بھی حکومتی اتحاد اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ انتخابی نتائج کے بعد ایشیبا پر استعفیٰ دینے کے مطالبات بڑھ گئے تھے۔ قیاس تھا کہ پیر کو ایل ڈی پی خصوصی قیادت کے انتخاب کے انعقاد کا فیصلہ کرے گی۔

سابق وزرائےاعظم اور وزرا سے مشاورت

ذرائع کے مطابق ہفتہ کے روز ایشیبا نے سابق وزیراعظم یوشی ہیدے سوگا اور وزیر زراعت شنجیرو کوئزومی سے ملاقات کی۔ ان رہنماؤں نے پارٹی اتحاد کو سب سے اہم قرار دیتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ خصوصی قیادت کے انتخاب سے قبل ہی استعفیٰ دے دیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bike rider Shivani Chauhan: گرفتاری کافی نہیں، سخت سزا ملنی چاہیے، گڑگاؤں ہٹ اینڈ رن کے ملزم کلیان بینسلا پر بولیں رائیڈر سیا

سیا نے کہا کہ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں پورا واقعہ بتایا…

24 minutes ago

Sara Tendulkar: سارہ تندولکر کا دلکش انداز، بھابھی کے ساتھ دیے پوز، مداحوں کو گنیش چترتھی کی مبارکباد

سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…

41 minutes ago

Maulana Arshad Madani on UCC: یو سی سی پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے؟

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…

2 hours ago

UPI Charge Rule: یو پی آئی کے نئے قواعد، کس سے، کب، کتنا اور کہاں وصول کیا جائے گا چارج؟

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…

2 hours ago