دنیا میں اپنی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کم ہوتی ہوئی آبادی کے لیے مشہور جاپان میں ایک تاریخی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ جاپان میں پہلی مرتبہ ایک خاتون نے ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ منگل کے روز جاپان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے سانے تاکائچی کو وزیر اعظم منتخب کیا۔ تاکائچی کو جاپانی سیاست میں ایک سخت رویے والی قدامت پسند لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ چین کے خلاف سخت مؤقف کے لیے بھی مشہور ہیں۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد وہ رسمی طور پر کنگ ناروہیتو سے ملاقات کریں گی اور وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لیں گی۔ تاکائچی کی تقرری جاپان کے لیے ایک تاریخی موقع مانا جا رہا ہے کیونکہ ملک کی سیاست اور کارپوریٹ دنیا میں اب بھی مردوں کا غلبہ ہے۔ جاپان کی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 20 فیصد سے بھی کم ہے اور ملک کی زیادہ تر بڑی کمپنیوں کی قیادت مردوں کے ہاتھ میں ہے۔ ایسے میں تاکائچی کی جیت کو ’’گلاس سیلنگ‘‘ توڑنے والا قدم کہا جا رہا ہے۔
تاکائچی کا سفر
تاکائچی 3 مارچ 1961 کو پیدا ہوئیں اور جاپان کی قدیم دارالحکومت نارا میں پرورش پائی۔ ان کے والد ایک کمپنی میں سیلز مین کا کام کرتے تھے جبکہ والدہ نارا پولیس میں تھیں۔ تاکائچی نے کوبے یونیورسٹی سے بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ماتسوشیتا انسٹی ٹیوٹ آف گورنمنٹ اینڈ مینجمنٹ سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1993 میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر اپنا پہلا انتخاب جیتنے سے پہلے انہوں نے کچھ عرصہ ایک نیوز اینکر کے طور پر بھی کام کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف چوتھے ٹی 20 میچ میں موقع نہ ملنے کے درمیان 15…
ریپر اور گلوکار یو یو ہنی سنگھ کی مشکلات ایک بار پھر بڑھتی نظر آ…
انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے اور دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے…
تجارت، ٹیکنالوجی، سلامتی، توانائی، تعلیم اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے…
سونے کی قیمتوں میں نرمی سے خریداروں کو راحت، مقامی زیورات کی مارکیٹ میں 22…
اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے بھارت کی ترقی کے حوالے سے بلومبرگ کے…