قومی

PM Narendra Modi congratulates Japans first woman PM: وزیر اعظم مودی نے جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم سانے تاکائچی کو دی مبارکباد

سانے تاکائچی کو منگل کو جاپان کی پارلیمنٹ میں ایک اہم انتخاب کے بعد وزیر اعظم منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب دوبارہ ووٹنگ کے ذریعے ہوا جس میں انہوں نے کامیابی حاصل کرکے جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کا اعزاز پایا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ جاپان کی سیاست میں پہلی بار کسی خاتون کو یہ منصب ملا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے دی  مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کے ذریعے تاکائچی کو جیت کی مبارکباد دی اور کہا کہ سانے تاکائچی، جاپان کی وزیر اعظم منتخب ہونے پر آپ کو دلی مبارکباد۔ میں بھارت اور جاپان کی خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لیے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔ ہمارے گہرے تعلقات ہند-پیسیفک اور اس کے علاوہ امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

سانے تاکائچی کا سیاسی سفر

سانے تاکائچی کا سیاسی سفر کافی دلچسپ رہا ہے۔ تاکائچی 3 مارچ 1961 کو پیدا ہوئیں اور جاپان کی قدیم دارالحکومت نارا میں پرورش پائی۔ ان کے والد ایک کمپنی میں سیلز مین کا کام کرتے تھے جبکہ والدہ نارا پولیس میں تھیں۔ تاکائچی نے کوبے یونیورسٹی سے بزنس مینجمنٹ کی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ماتسوشیتا انسٹی ٹیوٹ آف گورنمنٹ اینڈ مینجمنٹ سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1993 میں ایک آزاد امیدوار کے طور پر اپنا پہلا انتخاب جیتنے سے پہلے انہوں نے کچھ عرصہ ایک نیوز اینکر کے طور پر بھی کام کیا۔ دنیا میں اپنی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کم ہوتی ہوئی آبادی کے لیے مشہور جاپان میں ایک تاریخی فیصلہ سامنے آیا ہے۔ جاپان میں پہلی مرتبہ ایک خاتون نے ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ منگل کے روز جاپان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے سانے تاکائچی کو وزیر اعظم منتخب کیا۔ تاکائچی کو جاپانی سیاست میں ایک سخت رویے والی قدامت پسند لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ چین کے خلاف سخت مؤقف کے لیے بھی مشہور ہیں۔ جاپان کی پارلیمنٹ دو ایوانوں پر مشتمل ہے، اعلیٰ ایوان اور زیریں ایوان۔ دونوں ایوانوں نے تاکائچی کو اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم منتخب کیا ہے۔ اعلیٰ ایوان میں انہیں 125 ووٹ ملے جو ضروری اکثریت سے صرف ایک ووٹ زیادہ تھے۔ زیریں ایوان میں انہیں 237 ووٹ ملے جو ضروری اکثریت سے زیادہ تھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Afzal Ansari Arms Licence Case: افضل انصاری کو الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت، اسلحہ لائسنس منسوخی کا معاملہ دوبارہ کمشنر کے پاس پہنچا

یوپی نیوز: غازی پور کے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے…

3 minutes ago

UP Panchayat Election: یوپی پنچایت انتخابات پر الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا حکم، 3 ماہ کے اندر ووٹنگ کرانے کی ہدایت

اتر پردیش میں تین سطحی پنچایت انتخابات کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ نے…

28 minutes ago

FIR Against 3 Female Journalists: دہلی پولیس پر جن 3 خاتون صحافیوں نے لگایا تھا جنسی ہراسانی کا الزام، اب انہی کے خلاف ایف آئی آر درج

اے سی پی وویک بھگت کی شکایت پر کارروائی، ذات سے متعلق مبینہ توہین آمیز…

34 minutes ago

Ankita Bhandari Case: انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کی مانگ تیز، انڈیا گیٹ پر والدین سے ملے راہل اور پرینکا گاندھی

انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے اور دشینت گوتم کو سکم کا گورنر مقرر کیے جانے…

1 hour ago