بین الاقوامی

Israel’s air strike on Iran: ایران پر اسرائیل کا فضائی حملہ، امریکی وزیر خارجہ نے کہا- ہم اس میں شامل نہیں

نئی دہلی: اسرائیل نے جمعے کی صبح ایران کے خلاف بڑے فضائی حملے کیے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف حملوں میں شامل نہیں ہے۔ ’دی وائٹ ہاؤس‘ کے ’ایکس‘ ہینڈل پر وزیر خارجہ کی طرف سے لکھا گیا، ’’آج رات (امریکی وقت کے مطابق) اسرائیل نے ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کی۔ ہم ایران کے خلاف حملوں میں شامل نہیں ہیں۔ ہماری اولین ترجیح خطے میں امریکی افواج کا تحفظ ہے۔‘‘

’’امریکی اہلکاروں کو نشانہ نہ بنائے ایران‘‘

وائٹ ہاؤس نے مزید لکھا، ’’اسرائیل نے ہمیں بتایا کہ ان کے مطابق یہ کارروائی ان کے اپنے دفاع کے لیے ضروری تھی۔ صدر ٹرمپ اور انتظامیہ نے ہماری افواج کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں اور ہمارے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ مجھے واضح طور پر کہہ دوں- ایران کو امریکی مفادات یا اہلکاروں کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔‘‘

حریفوں کے درمیان وسیع تر تصادم کا امکان

یہ حملے تہران کے جوہری پروگرام پر بڑھتے ہوئے خدشات اور اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے اس کے مبینہ خطرے کے درمیان ہوئے، جس سے ایران میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی طویل عرصے سے چلے آ رہے حریفوں کے درمیان وسیع تر تصادم کا امکان بھی بڑھ گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک ٹیلی ویژن چینل پر کہا کہ اسرائیل نے ’اپنے وجود کو لاحق ایرانی خطرے کو کم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ فوجی آپریشن‘ شروع کیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا، ’’یہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارے خلاف تباہی کے خطرے کو ختم کرنے کا کام مکمل نہیں ہو جاتا۔‘‘

اسرائیلی وزیر دفاع نے نی حملے کی تصدیق

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی اس حملے کی تصدیق کی ہے، جنہوں نے اسے ’قبل از وقت حملہ‘ قرار دیا ہے جس کا مقصد خطرات کو بے اثر کرنا ہے۔ کاٹز نے قومی تیاری اور شہری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پورے اسرائیل میں ہنگامی صورت حال کا اعلان بھی کیا ہے۔

تہران کے کئی علاقوں میں زور دار دھماکہ

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جمعے کی صبح دارالحکومت تہران کے کئی علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے اطلاع دی ہے کہ دھماکوں کے منبع کا ابھی تک سرکاری طور پر پتہ نہیں چل سکا ہے، حالانکہ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اسرائیلی حملوں کا مقصد فوجی انفراسٹرکچر یا جوہری تنصیبات ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل پیر کے روز ایران کے اعلیٰ سکیورٹی ادارے نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسلامی جمہوریہ پر فوجی حملہ کیا گیا تو اس کی مسلح افواج فوری طور پر اسرائیل کی ’خفیہ جوہری تنصیبات‘ کو نشانہ بنائیں گی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی…

52 minutes ago

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار…

1 hour ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

1 hour ago