غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج نے اب تک 50144 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ ان قتل کیے گئے فلسطینیوں میں سب سے زیادہ تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ وزارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق 18 مارچ 2025 جب سے اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کو یکطرفہ طور پر توڑ کر جنگ کو ایک نیا آغاز دیا ہے اب تک 792 فلسطینی قتل کیے ہیں۔ ان مقتول فلسطینیوں میں بھی بڑی تعداد بچوں اور فلسطینی عورتوں کی ہے۔ 18 مارچ سے اب تک زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1663 ہے۔ جبکہ مجموعی طور پر 7 اکتوبر 2023 سے اب تک کے زخمی فلسطینیوں کی تعداد 114000 کے لگ بھگ ہے۔
غزہ کے حوالے سے مصر کی نئی تجویز
اسرائیل نے غزہ کے حوالے سے مصر کی نئی تجویزپرجواب دینے کے لیے مہلت طلب کی ہے۔ العربیہ نیوزکے مطابق، اسرائیل غزہ کی پٹی سے حماس کے ہتھیار لیے جانے کے واسطے ٹائم ٹیبل وضع کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امداد کو کنٹرول اورتقسیم کرنے کے حوالے سے اسرائیلی تجویزکومسترد کردیا گیا۔ دوسری جانب، حماس نے اسرائیل کی کارروائیاں روکے جانے کے حوالے سے مزید ضمانتوں کا مطالبہ کیا ہے۔
مصر کے نئے پلان پررضا مند ہوسکتا ہے حماس
ذرائع کے مطابق مصر نے تجویز میں تمام زندہ اور مردہ قیدیوں کی آزادی کے لیے ایک سے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ متعین کیا ہے۔ حماس نے مصر کے نئے پلان کو کامیاب کرنے کے لیے رعائتوں اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مصر اب رواں ہفتے کے اختتام سے قبل 5 قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کے مقابل انسانی امداد کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گا۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل نے تمام یرغمالیوں کے حوالے کیے جانے تک مکمل انخلا کو مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ مصر معاہدہے تک پہنچنے میں ناکامی کی صورت میں عید الفطر میں جنگ بندی کی کوشش کر رہا ہے۔ مصر نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی معاہدے کو دوبارہ سے اپنے راستے پر لانے کی کوشش ہے۔ یہ بات قاہرہ میں دو با خبر ذمے داران نے بتائی ہے۔
جنگ بندی کے دوران اسرائیلی نے شروع کردیا حملہ
ایک مصری ذمے دار نے آج پیرکے روزبتایا کہ حماس تنظیم پانچ زندہ قیدیوں کو آزاد کرے گی، جن میں امریکی نژاد اسرائیلی شہری شامل ہے۔ اس کے مقابل اسرائیل ایک ہفتے کی فائر بندی میں داخل ہو گا اور اس دوران میں غزہ میں انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دے گا۔ اسی طرح اسرائیل سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو بھی رہا کرے گا۔ حماس کے ایک ذمے دار کے مطابق تنظیم نے اس تجویز پر”مثبت جواب” دیا ہے۔ تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ یہ تجویز اسرائیل کی جانب سے گذشتہ ہفتے فائر بندی کو ختم کر دینے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسرائیل نے اچانک سے فضائی حملوں نیا سلسلہ شروع کر دیا جس میں اب تک سیکڑوں فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ البتہ حماس نے معاہدے میں ترمیم کے حوالے سے اسرائیل کی تائید شدہ ترامیم کو مسترد کر دیا۔ ان ترامیم کا مقصد مستقل فائر بندی کے حوالے سے بات چیت شروع ہونے سے قبل مزید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ہے۔ حماس نے اعلان کیا تھا کہ وہ صرف 59 بقیہ قیدیوں کو آزاد کرے گی جن میں 24 کے بارے میں خیال ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ اس کے مقابل سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی ، مستقل فائر بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلا کو یقینی بنایا جائے۔