ایویان: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایویان میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل، لبنان اور ایران سے متعلق اہم امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو اسرائیل اب تک تباہ ہو چکا ہوتا۔
جی-7 اجلاس کے موقع پر اہم ملاقات
جی-7 سربراہی اجلاس کے موقع پر صدر ٹرمپ اور قطر کے امیر کے درمیان مختلف عالمی اور علاقائی مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ دونوں لیڈران نے دوطرفہ تعلقات سمیت مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ ٹرمپ نے شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کی مشکل حالات میں بردباری اور متوازن کردار ادا کرنے پر تعریف کی اور انہیں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار قرار دیا۔
اسرائیل کی سلامتی میں امریکہ کا کردار
پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کے وجود اور سلامتی کے تحفظ میں امریکہ کا کردار فیصلہ کن رہا ہے۔ ان کے بقول اگر ان کی قیادت نہ ہوتی تو اسرائیل کی پوزیشن کہیں زیادہ کمزور ہو سکتی تھی، کیونکہ ان سے قبل کوئی بھی امریکی صدر ایسے اقدامات کے لیے تیار نہیں تھا جو انہوں نے کیے۔
نیتن یاہو سے اچھے تعلقات، مگر تنبیہ بھی
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ساتھ اپنے تعلقات کو ’انتہائی اچھا‘ قرار دیا، لیکن انہوں نے کہا کہ لبنان کے معاملے میں نیتن یاہو کو زیادہ ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ کام لینا چاہیے۔ انہوں نے لبنان کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کبھی اساتذہ، ڈاکٹروں اور وکلا کی سرزمین کے طور پر جانا جاتا تھا، لیکن اب اس کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں۔
حزب اللہ کے خلاف کارروائی پر سوال
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع بہت طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخص کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارت کو تباہ کر دینا مناسب نہیں، کیونکہ ایسی عمارتوں میں بے گناہ افراد بھی رہتے ہیں جن کا حزب اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
شام کو کردار دینے کی تجویز
ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اسرائیل کو مشورہ دیا تھا کہ حزب اللہ سے نمٹنے کی ذمہ داری شام کو سونپی جائے۔ ان کے مطابق شام اس معاملے کو شاید زیادہ مؤثر انداز میں سنبھال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کا طویل ہونا خطے میں وسیع تر سیاسی مفاہمت کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ایران معاہدے پر اوباما پر تنقید
ایران کے جوہری معاہدے پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے سابق امریکی صدر براک اوباما کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اوباما دور کا معاہدہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی جانب لے جانے والا راستہ تھا، جبکہ ان کا مؤقف اس کے برعکس ایران کو اس صلاحیت سے دور رکھنے کا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس وقت اسرائیلی وزیر اعظم واشنگٹن جا کر اوباما انتظامیہ سے معاہدہ روکنے کی اپیل بھی کر چکے تھے، لیکن ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بعد میں انہوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اس معاہدے کو ختم کر دیا کیونکہ ان کے نزدیک یہ ایک بڑی غلطی تھی۔
بھارت ایکسپریس۔
امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کی 25 سالہ عوامی خدمت کا ذکر اس…
یونیورسٹی آف ممبئی کے شعبۂ قانون اور چیف جسٹس ایم سی چھاگلا میموریل ٹرسٹ کے…
پروفیسر شاہد صدیقی نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو اردو سے جوڑنے کے لیے…
مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…
بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…