بین الاقوامی

G-7 Summit: جی-7 سربراہ اجلاس میں زیلنسکی نے عالمی لیڈروں سے کی اپیل، کہا-’’روس کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کرنا ہوگا‘‘

نئی دہلی: فرانس میں جاری جی-7 سربراہ اجلاس کے دوران یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے عالمی برادری کے کردار پر زور دیتے ہوئے روس پر مزید دباؤ بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے جی-7 ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے یوکرین کی حمایت اور امن کے لیے پیش کیے گئے اقدامات کو سراہا۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جی-7 فارمیٹ کے تحت ہونے والے پہلے کثیر فریقی اجلاس میں یوکرین نے بھی شرکت کی، جہاں جنگ کے خاتمے اور روس کو مذاکرات کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کے حوالے سے اہم تبادلہ خیال ہوا۔

زیلنسکی نے ادا کیا عالمی لیڈران کا شکریہ

یوکرینی صدر نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں، برطانیہ کے وزیراعظم کیراسٹارمر، اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی، کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی، جرمنی کے چانسلر فیڈرک مرز، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جاپان کی وزیراعظم سنائے تائیکائچی، یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وون دیر لیئن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں نے روس کو امن کی طرف بڑھنے پر مجبور کرنے کے لیے مضبوط تجاویز پیش کیں، جو یوکرین کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

کیا ہیں یوکرین کی ترجیحات؟

زیلنسکی کے مطابق یوکرین کی فوری ترجیحات میں فضائی دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا، میزائلوں کی تعداد میں اضافہ، ان کی مقامی پیداوار کے لیے لائسنس کا حصول، موسمِ سرما کے لیے امدادی پیکجوں کی تیاری اور روس پر سفارتی و اقتصادی دباؤ میں اضافہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ان تمام شعبوں میں تعاون اور حمایت جاری رکھنے کے لیے تیار ہے، جو یوکرین کے لیے حوصلہ افزا امر ہے۔

روس کو جنگ کے نتائج کا احساس دلانا ضروری

یوکرینی صدر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اجلاس میں ہونے والی گفتگو کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔ ان کے مطابق روس کو یہ واضح پیغام جانا چاہیے کہ اس کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو کبھی معمول کا حصہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ان تمام ممالک اور رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا جو یوکرین کے امن اور خودمختاری کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے بھی کی روس پر دباؤ بڑھانے کی بات

جی-7 اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روس پر جنگ ختم کرنے اور سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین دونوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور صرف گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے تقریباً 35 ہزار فوجی ہلاک ہوئے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ صورتحال ہر ماہ دہرائی جا رہی ہے اور اسے مزید جاری نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ دیوانگی ہے۔ میں نے اتوار کو صدر پوتن سے بات کی تھی۔ دونوں جانب مسلسل جانی نقصان ہو رہا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد ایسی صورتحال کم ہی دیکھی گئی ہے۔‘‘ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ اب تک آٹھ مختلف تنازعات کے حل میں کردار ادا کر چکے ہیں اور انہیں امید تھی کہ روس-یوکرین تنازعہ کا حل نسبتاً آسان ہوگا، تاہم دونوں فریقوں کے درمیان گہری بداعتمادی اس عمل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعد میں ایک بار پھر روسی قیادت سے رابطہ کریں گے تاکہ جنگ بندی اور امن معاہدے کے امکانات پر پیش رفت کی جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

3 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

3 hours ago