اسرائیل کے وزیر دفاع ایزرائیل کارٹز نے ایرانی معیشت پر بڑی ضرب لگاتے ہوئے ایران کے مرکزی بینک کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یہ قدم اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی سفارش پر اٹھایا گیا ہے۔ کارٹز نے واضح کیا کہ اسرائیل ان تمام ایرانی اداروں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا جو اسرائیلی مفادات کے خلاف سرگرم ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوئی
اگرچہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ بندی (سیزفائر) ہو چکی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور دشمنی کی آگ ذرا بھی سرد نہیں ہوئی۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران کا مرکزی بینک دہشت گرد تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے، اور یہ اعلان 12 دنوں تک جاری رہنے والی جنگ کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔
ایزرائیل کارٹز کا بیان
ایزرائیل کارٹز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا: میں نے آج موساد اور قومی اقتصادی جنگ کے ہیڈکوارٹر کی سفارش پر ایران کے مرکزی بینک کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے ایک خصوصی حکم پر دستخط کیے۔ اس اقدام کا مقصد ایرانی دہشت گرد حکومت کے مالیاتی نظام کی جڑ پر ضرب لگانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ایران کا مرکزی بینک ایک ایسا ذریعہ ہے جو جان لیوا دہشت گردی کے لیے اربوں ڈالر کی فنڈنگ کرتا ہے۔ ہم ان مقامات پر ضرب لگائیں گے جو آیت اللہ حکومت کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہیں۔ کارٹز کے مطابق یہ بینک حزب اللہ، حوثی باغیوں، عراق کی شیعہ ملیشیا، حماس اور پاسداران انقلاب (IRGC) جیسے گروہوں کو سرمایہ فراہم کرتا ہے۔
کوئی رعایت نہیں ہوگی
اسرائیلی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی کسی بھی سرکاری ایجنسی کو، جو دہشت گردی میں ملوث ہے، کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔ ایزرائیل کارٹز نے مزید کہا: “ہم ایرانی شرارت کے مرکز کو بے نقاب کرتے رہیں گے، اس پر حملہ کریں گے اور اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے — چاہے وہ جہاں کہیں بھی سرگرم ہو۔”
سیزفائر کی خلاف ورزی پر انتباہ
سیزفائر کے معاملے پر کارٹز نے کہا کہ اسرائیلی افواج کو ہدایت دی گئی ہے کہ اگر ایران سیزفائر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ مکمل طاقت کے ساتھ اس کا جواب دیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: میں نے وزیراعظم کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد IDF (اسرائیلی ڈیفنس فورس) کو ہدایت دی ہے کہ اگر ایران سیزفائر کی خلاف ورزی کرے تو وہ تہران کے مرکز میں حکومت کے ٹھکانوں پر شدید حملے کر کے بھرپور جواب دیں۔
اس اعلان کا عملی اثر
اسرائیل کے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اب اسرائیل کی کوئی کمپنی یا مالیاتی ادارہ ایران کے مرکزی بینک کے ساتھ کسی بھی قسم کا لین دین نہیں کر سکے گا۔ یہ اقدام ایرانی معیشت کو عالمی سطح پر مزید تنہا کرنے کی کوشش کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر تھی، اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے خلاف براہ راست حملے کر چکی ہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک نے حال ہی میں جنگ بندی کا اعلان کیا، لیکن اسرائیل کے اس نئے اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ دشمنی کی آگ اب بھی بھڑک رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…
کانگریس لیڈر نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور انتخابی کمیشن کے اندر اختلافِ رائے…
ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…
ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت، عدالت نے الیکشن کمیشن سے دونوں فریقوں کے مفاد…
یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…