ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد ایران کی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس کی جوہری تنصیبات پر امریکہ کے تازہ ترین حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی ’’بے مثال اور سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اسے اس طرح کی ’’جارحیت‘‘ کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارتِ خارجہ، ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر امریکہ کی سفاکانہ فوجی جارحیت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے بنیادی اصولوں کی سنگین اور بے مثال خلاف ورزی ہے۔ جنگ پسند اور قانون شکن امریکی حکومت اس سنگین جارحیت اور اس گھناؤنے جرم کے خطرناک نتائج اور دور رس اثرات کی مکمل ذمہ دار ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ایک اقوام متحدہ کے رکن ملک کی سرزمین اور قومی خودمختاری کے خلاف امریکی فوجی حملہ، جو کہ نسل کشی کے مرتکب صیہونی حکومت کے ساتھ ملی بھگت سے کیا گیا ہے، ایک بار پھر امریکی خارجہ پالیسی کی پستی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے پُرامن اور آزادی پسند عوام کے خلاف امریکی حکومتی حلقوں کے شدید تعصب کو بے نقاب کرتا ہے۔‘‘
ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق ہے: ایرانی وزارت خارجہ
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اسلامی جمہوریہ ایران، امریکہ کی مجرمانہ جارحیت کے خلاف اپنی سرزمین، خودمختاری، سلامتی اور عوام کا ہر قیمت پر اور ہر وسیلے سے دفاع کرنے کا پختہ عزم رکھتا ہے۔ ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر امریکہ کا غیرقانونی حملہ، جو اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے دسویں دن علی الصبح کیا گیا، واشنگٹن کی صیہونی حکومت کے ساتھ جنگی سازش میں مجرمانہ شراکت داری کو بے نقاب کرتا ہے۔‘‘
امریکی حملہ اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ’’یہ جارحیت، جو کہ سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن ملک کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات کے خلاف کی گئی، نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی اور عالمی عدم پھیلاؤ (Non-Proliferation) نظام پر بھی کاری ضرب ہے۔‘‘
عالمی برادری کو اٹھانی چاہیے اس کے خلاف آواز: ایران
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’اس طرح کی کھلی جارحیت پر خاموشی دنیا کو بے مثال خطرات اور افراتفری کی طرف لے جائے گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اور دیگر متعلقہ عالمی اداروں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی اس سنگین خلاف ورزی پر فوری اور فیصلہ کن اقدام کریں۔ اقوام متحدہ کا بانی رکن ہونے کے ناطے، اسلامی جمہوریہ ایران اس عالمی تنظیم اور اس کے ذمہ دار رکن ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکہ کے ایران کے خلاف یک طرفہ، غیرقانونی اور کھلے حملے کے مقابلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔‘‘
آئی اے ای اے کا جانبدارانہ رویہ باعثِ تشویش
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں آئی اے ای اے پر بھی جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ’’IAEA اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کی ذمہ داری، جنھوں نے جنگ پسند فریقوں کی حمایت میں کھلے جانبدارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس المیے کا راستہ ہموار کیا، اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ IAEA کا بورڈ آف گورنرز فوری اجلاس بلائے اور ایران کی ان پُرامن جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے جواب میں اپنی قانونی ذمہ داری ادا کرے، جن تنصیبات کی IAEA نے مکمل طور نگرانی اور معائنہ کیا ہے۔‘‘
امریکہ نے کی سفارتی غداری: ایران
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران ہمیشہ سے سفارت کاری کا حامی رہا ہے، تاہم امریکہ نے ’’سفارتی غداری‘‘ کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’دنیا یہ نہ بھولے کہ جب سفارتی عمل جاری تھا، تو یہی امریکہ تھا جس نے اس عمل سے غداری کرتے ہوئے، قانون شکن اور نسل کشی کرنے والی اسرائیلی حکومت کی حمایت سے ایرانی قوم پر جارحیت مسلط کی۔ اب اس غیرقانونی اور مجرمانہ سلسلے کو مکمل کرتے ہوئے، خود امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک خطرناک جنگ چھیڑ دی ہے۔‘‘
اسرائیل کی حمایت میں کسی بھی حد تک جا سکتا ہے امریکہ
بیان میں ایران کی وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ’’اب یہ بات دنیا پر بالکل واضح ہو چکی ہے کہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے باوجود، امریکہ نہ تو کسی اصول کا پابند ہے، نہ کسی اخلاقیات کا اور نہ ہی کسی قانون کو مانتا ہے، بلکہ وہ ایک غاصب اور نسل کش حکومت کے مقاصد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…
بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ…
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…