سرکاری تقریب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، چیف جسٹس غلام حسین محسنی اور سینئر فوجی کمانڈر محسن رضائی سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے۔
تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمعہ کے روز ایران کی اعلیٰ سیاسی، عسکری اور مذہبی قیادت کے ساتھ دنیا بھر سے آئے ہوئے وفود تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں جمع ہوئے۔ آیت اللہ خامنہ ای رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں جاں بحق ہوئے تھے۔
ایرانی قیادت کا سپریم لیڈر کو خراج عقیدت
سرکاری تقریب میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، چیف جسٹس غلام حسین محسنی اور سینئر فوجی کمانڈر محسن رضائی سمیت حکومت کے تینوں ستونوں کے سربراہان نے شرکت کرتے ہوئے مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔
A delegation of Indian religious leaders paid tribute to the martyred Leader of the Islamic Republic of Iran, Ayatollah Ali Khamenei. pic.twitter.com/Ji1i3vNkGm
— Iran in India (@Iran_in_India) July 3, 2026
بھارت سمیت کئی ممالک کے وفود کی شرکت
بھارت کی جانب سے وزیرمملکت برائے امور خارجہ پبترا مارگریٹا اور بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطاء حسنین سرکاری وفد میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی اور کانگریس کے سینئر رہنما سلمان خورشید بھی تہران پہنچنے والے نمایاں بھارتی رہنماؤں میں شامل ہیں۔ تقریب میں جارجیا، عراق، تاجکستان، روس، چین، عمان، لبنان اور فلسطین سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود بھی شریک ہوئے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی تقریب میں شرکت کی۔
تقریب میں شریک نہیں ہوں گے مجتبیٰ خامنہ ای
ایرانی حکام نے ملک میں غیر معمولی حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک نہیں ہوں گے۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ملکی قیادت کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا، جبکہ خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے بیرونی طاقتوں کو ایران کے خلاف کسی بھی غلط اندازے سے باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔
9 جولائی کو مشہد میں تدفین، لاکھوں افراد کی شرکت متوقع
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی میت دو روز تک تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں عوامی دیدار کے لیے رکھی جائے گی، جس کے بعد پیر کو تہران میں جنازے کا جلوس نکالا جائے گا۔ اس کے بعد قم، عراق کے مقدس شہروں بغداد، کربلا اور نجف میں بھی تعزیتی تقریبات منعقد ہوں گی، جبکہ 9 جولائی کو ان کی آبائی شہر مشہد میں تدفین عمل میں آئے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق، آخری رسومات میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…