بین الاقوامی

Iran suspends cooperation with IAEA: ایرانی پارلیمنٹ نے IAEA کے ساتھ تعاون کیا معطل، پرامن جوہری پروگرام جاری رکھے گا تہران

تہران: ایرانی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دے دی۔ ایران کی نیم سرکاری مہر خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ یہ فیصلہ امریکہ کی طرف سے تین ایرانی جوہری مقامات اصفہان، فورڈو اور نطنز پر کیے گئے حالیہ ’آپریشن مڈ نائٹ ہیمر‘ کے بعد سامنے آیا ہے۔

223 اراکین میں سے 221 نے حق میں دیا ووٹ

رپورٹس بتاتی ہیں کہ پارلیمنٹ کے کھلے اجلاس کے دوران قانون سازوں نے ایک منصوبے کے عمومی خاکہ پر اتفاق کیا جس میں IAEA کے ساتھ تعاون کو معطل کرنے کی بات کی گئی۔ اجلاس میں موجود 223 اراکین میں سے 221 نے حق میں، ایک نے مخالفت میں اور ایک نے ووٹ نہیں دیا۔ ایران نے کہا کہ اسے اپنی خودمختاری، مفادات اور عوام کے تحفظ کا پورا حق حاصل ہے۔

’پرامن‘ جوہری پروگرام کو جاری رکھے گا ایران

ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن (AEOI) نے اعلان کیا کہ یہ حملہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی خلاف ورزی ہے اور وہ ایران کو اپنے ’پرامن‘ جوہری پروگرام کو جاری رکھنے سے نہیں روک سکتا۔

اپنی ’بین الاقوامی ساکھ‘ کھو چکی ہے آئی اے ای اے

اس سے قبل ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب نے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت نہیں کر رہی، اور کہا کہ آئی اے ای اے اپنی ’بین الاقوامی ساکھ‘ کھو چکی ہے۔

’’تیزی سے آگے بڑھے گا ایران کا جوہری پروگرام‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ایرانی جوہری تنصیبات کی حفاظت کے بارے میں یقین دہانیاں نہیں مل جاتیں AEOI تب تک IAEA کے ساتھ اپنا تعاون روک دے گا۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ ایران کا پرامن جوہری پروگرام مزید تیزی سے آگے بڑھے گا۔

13 جون کو، اسرائیلی فضائی حملوں نے ایران کے اندر کئی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں جوہری اور فوجی تنصیبات بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد اتوار کے روز ایران کے فورڈو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملے کیے گئے۔ یہ واقعہ IAEA کے بورڈ آف گورنرز کی ایک حالیہ قرارداد کے ساتھ میل کھاتا ہے، جس میں 2005 کے بعد پہلی بار ایران کو اپنی جوہری ذمہ داریوں پر عمل نہ کرنے ولا قرار دیا گیا۔

یہ قدم IAEA کی ایک رپورٹ کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں تہران پر تین غیر اعلانیہ مقامات پر پائے جانے والے جوہری مواد کی موجودگی کے بارے میں پوری طرح سے وضاحت نہ دینے کا الزام لگایا گیا ہے، جبکہ ایجنسی نے تعاون کی پیشکش کو ’تسلی بخش سے کم‘ بتایا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Microsoft Layoff Alert: مصنوعی ذہانت کے دور میں 60,000 ملازمین کو ملازمت چھوڑنے کی پیشکش، جانئے کیا ہے مائیکروسافٹ کا منصوبہ؟

مائیکروسافٹ کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت…

21 minutes ago

Commonwealth Kabaddi Championship 2026: کامن ویلتھ کبڈی چیمپئن شپ 2026، بھارتی مرد و خواتین ٹیموں نے نائجیریا کو بری طرح دی شکست

بھارتی مردوں نے 50-23 سے کامیابی حاصل کی، جبکہ خواتین ٹیم نے نائجیریا کو 38-10…

9 hours ago

‘Lakhpati Didi’ Scheme: لکھ پتی دیدی اسکیم سے سنور رہی ہے دیہی خواتین کی زندگی، خود کفالت کی جانب بڑھ رہے قدم

مدھیہ پردیش کے نیمچ ضلع میں لکھ پتی دیدی اسکیم کے مثبت نتائج سامنے آ…

9 hours ago