Representational Image
اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد ایرانی وفد ہفتہ کے روز اچانک روانہ ہو گیا، جس سے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان دوسرے دور کے مذاکرات کی میزبانی کی کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ وفد کی قیادت ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے تھے، جنہوں نے پاکستانی قیادت سے ملاقات کے بعد ایک ’’باضابطہ مطالبات کی فہرست‘‘ پیش کی اور مزید بات چیت کے بغیر دارالحکومت چھوڑ دیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں کو ناکامی
رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم ایرانی وفد نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے بجائے صرف اپنی شرائط پاکستان کے ذریعے پہنچائیں۔ ذرائع کے مطابق، ان شرائط میں خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ شامل تھا۔ اس پیش رفت کے بعد واضح ہو گیا کہ اسلام آباد میں مجوزہ دوسرا دورِ مذاکرات عملی طور پر ختم ہو چکا ہے، کیونکہ ایرانی وفد اب عمان اور روس کے دورے پر روانہ ہو چکا ہے۔
اعلیٰ سطحی ملاقات، مگر کوئی پیش رفت نہیں
ایرانی وفد کی روانگی سے قبل پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس کیا، جس میں شہباز شریف، عاصم منیر، اسحاق ڈار اور محسن نقوی شریک ہوئے۔ تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے والی اس ملاقات کے باوجود کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ سکی، اور یہ ملاقات محض پیغام رسانی تک محدود رہی۔ ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔
سخت سکیورٹی، مگر سفارتی ناکامی
اسلام آباد میں ان مذاکرات کے پیش نظر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ اہم سڑکیں بند کر دی گئیں اور ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا، جس سے شہری زندگی متاثر ہوئی۔ تاہم، اس سخت سکیورٹی کے باوجود کوئی سفارتی کامیابی حاصل نہ ہو سکی اور مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ ایرانی وفد کی فوری روانگی اور عمان و روس کا رخ کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران ان ممالک کو خطے میں زیادہ مؤثر ثالث سمجھتا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کے لیے سفارتی دھچکا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ-ایران کشیدگی کے حل کے لیے علاقائی سطح پر نئے پاور سینٹرز ابھر رہے ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے پیچیدہ تنازعات میں ثالثی کا کردار حاصل کرنا آسان نہیں، اور اس کے لیے محض سفارتی دعوے نہیں بلکہ عملی اعتماد اور اثر و رسوخ بھی درکار ہوتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…