بین الاقوامی

US Iran Peace Talks in Pakistan: اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایرانی وفد پاکستان پہنچا، ٹرمپ کو وارننگ – شرائط نہ مانیں تو بات چیت مشکل

ایران اور امریکہ کے درمیان متوقع اہم امن مذاکرات سے قبل ایرانی وفد پاکستان پہنچ گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر غالب کی قیادت میں یہ وفد رات دیر گئے اسلاآباد پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق کچھ ہی دیر میں امریکی وفد بھی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اسلام آباد پہنچنے والا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی اس اہم ملاقات کو “اسلام آباد مذاکرات” کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگ کے مستقل حل کی تلاش ہے۔یہ مذاکرات تقریباً چھ ہفتوں تک جاری رہنے والی کشیدگی اور جھڑپوں کے بعد ہو رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں بے چینی بڑھ گئی تھی۔ عالمی سطح پر اس بات چیت کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطح کی نادر ملاقاتوں میں سے ایک ہوگی۔

ایرانی وفد میں کون شامل ہے؟

اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد میں کئی اعلیٰ حکومتی شخصیات شامل ہیں۔ وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف کے ساتھ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقحی بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی اکبر احمدیان، مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناعر ہمتی اور متعدد دیگر ارکان پارلیمنٹ بھی اس وفد کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ کئی اہم سیاسی، فوجی اور اقتصادی عہدیدار بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے

امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جب کہ ان کے ہمراہ سابق صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ایلچی اسٹیو اور سینئر مشیر جیرڈ کشنربھی ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں وفود اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ملاقات کریں گے جہاں اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایران کی شرطیں سامنے آگئیں

ایرانی وفد کے اسلام آباد پہنچنے کے بعد سرکاری میڈیا نے بتایا کہ مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں ہوں گے جب تک واشنگٹن ایرانی شرائط کو تسلیم نہیں کرتا۔ قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ بات چیت سے پہلے دو اہم اقدامات ضروری ہیں، جن میں لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں اقدامات پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا، اس لیے مذاکرات شروع کرنے سے پہلے ان شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اعتماد سازی کے بغیر بات چیت مؤثر ثابت نہیں ہو سکتی۔

وائٹ ہاؤس کا محتاط مؤقف

ادھر وائٹ ہاؤس کے حکام نے بھی مذاکرات کے نتائج پر محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمزکو دوبارہ کھولنا آسان نہیں ہوگا، چاہے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہی کیوں نہ ہو۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی مذاکرات

قابل ذکر بات یہ ہےکہ  جوزف عون کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان اگلے منگل سے براہ راست مذاکرات شروع ہوں گے۔ اس کا مقصد اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان لبنان میں جاری دشمنی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔اب عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں ہونے والی اس اہم ملاقات پر مرکوز ہیں، جس سے یہ طے ہوگا کہ خطے میں امن قائم ہوگا یا کشیدگی مزید بڑھے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

UK Telford News: ٹیل فورڈ میں سکھ بس ڈرائیور پر حملہ، ملزم نے بس پر کیا قبضہ، 10 منٹ میں گرفتار

برطانیہ کے ٹیل فورڈ میں ایک شخص نے سکھ بس ڈرائیور پر حملہ کرنے کے…

28 minutes ago

Uttarakhand Glacier Melting Crisis: ٹائم بم پر بیٹھا ہے اتراکھنڈ: 34 برس میں 25 کلومیٹر سے زیادہ برف غائب، تیزی سے سکڑ رہے ہیں ہمالیائی گلیشیئر

اتراکھنڈ میں ہمالیائی گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کی تشویش ناک تصویر سامنے آئی ہے۔…

1 hour ago