بین الاقوامی

Iran-US Conflict: بڑی جنگ کی آہٹ! ایران کی میزائل دھمکی کے بعد قطر میں واقع سب سے بڑے امریکی فوجی اڈے پر ہلچل، عملے کو ہٹانے کا مشورہ

مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک خطرناک موڑ پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے سخت فوجی کارروائی کی وارننگ کے بعد قطر میں قائم امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے احتیاطی قدم کے طور پر اپنے کچھ فوجی اور سول عملے کو وہاں سے ہٹانے کا مشورہ دینا شروع کر دیا ہے، جس سے خطے میں ایک بڑی جنگ کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان سیاسی اور سفارتی محاذ آرائی طویل عرصے سے جاری ہے، تاہم حالیہ دنوں میں ایران میں حکومت مخالف مظاہروں اور ان پر سخت کارروائی نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکہ مسلسل ایرانی قیادت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہا ہے، جبکہ تہران ان مظاہروں کو بیرونی سازش قرار دے رہا ہے۔ اسی تناظر میں ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر کوئی فوجی حملہ ہوا تو وہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اور اتحادی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے ان ممالک کو بھی سخت پیغام دیا ہے جو اپنے یہاں امریکی افواج کو جگہ فراہم کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تہران کا مؤقف ہے کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی کی تو اس کا جواب پورے خطے میں دیا جائے گا اور امریکی فوجی تنصیبات ایرانی میزائلوں کی زد میں ہوں گی۔

قطر میں واقع امریکی فضائی اڈہ ’العدید‘ اس وقت ایران کے نشانے پر بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اڈے پر موجود کچھ امریکی اہلکاروں کو عارضی طور پر اڈہ چھوڑنے یا غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اگرچہ ابھی بڑے پیمانے پر انخلا کے آثار سامنے نہیں آئے، لیکن حالات کو سنجیدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی کے دوران، ممکنہ حملے سے چند گھنٹے قبل بڑی تعداد میں امریکی عملہ اسی اڈے سے نکالا گیا تھا۔

اس معاملے پر دوحہ میں قائم امریکی سفارت خانے نے کوئی باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، جبکہ قطری حکومت کی جانب سے بھی خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی خود صورتحال کی نزاکت کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران کی حکومت کا الزام ہے کہ ملک میں جاری پرتشدد احتجاج کے پیچھے امریکہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ تہران نے ان مظاہروں کو دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں اور فوجی مداخلت کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ حال ہی میں جب ایران نے مظاہرین کو سزائے موت دینے کا عندیہ دیا تو ٹرمپ نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ سزائیں دی گئیں تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ کے ان بیانات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بھڑکا دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Sports News: ویسٹ انڈیز نے تاریخی ہدف حاصل کرکے ریکارڈز کی جھڑی لگا دی، شائی ہوپ کے نام بھی بڑی کامیابی

دوسرے ٹی 20 مقابلے میں ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔…

4 hours ago

LG Swaraj Dweep visit: ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما کا دورہ جزائر انڈمان و نکوبار: ہاپ آن ہاپ آف بس سروس کا آغاز اور اہم اعلانات

جزائر انڈمان اور نکوبار کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے سوراج دیپ کا دو…

5 hours ago

PMEGP Scheme: پی ایم ای جی پی اسکیم سے کامیاب کاروبار کھڑا کیا، شاکر خان بنے کئی لوگوں کے لیے روزگار فراہم کرنے والے

مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…

6 hours ago