بین الاقوامی

Middle East Crisis: ایران کی بحرین کو ’’سخت وارننگ‘‘  کہا-’’بحرین اپنی حد میں رہے، اشتعال انگیزی ہوئی تو کی جائے گی مزید فوجی کارروائی‘‘

تہران: ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے بحرین کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی قسم کی اشتعال انگیزی کی گئی تو ایران مزید سخت فوجی کارروائی کرے گا۔ نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نیوز کے مطابق، علی اکبر ولایتی نے کہا ’’بحرین کو سنجیدہ وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی حدود کو پہچانے، اپنے مستقبل کے ساتھ نہ کھیلے اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کرے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے جمعہ اور ہفتہ کے دوران بحرین میں واقع امریکی بحریہ کے اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ خطے میں موجود اپنے فوجی اڈوں کو ایرانی سرزمین پر حملوں کے لیے استعمال کرتا ہے، تاہم خلیجی ممالک اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔ بحرین نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

دوحہ میں مذاکرات کی تیاری، فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق

اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان باہمی فوجی حملے روکنے اور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منگل سے تکنیکی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق بھی سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز سے متعلق جاری تنازع کا حل تلاش کرنا ہے، جو حالیہ شدید فوجی کشیدگی کے بعد ایک نازک جنگ بندی کو خطرے میں ڈال چکا تھا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق، دونوں ممالک نے فی الحال ایک دوسرے پر حملے روکنے اور تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ’’ہم نے تمام فوجی کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘ جبکہ ایک دوسرے عہدیدار کے مطابق فی الحال دونوں فریق پیچھے ہٹ رہے ہیں اور آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری رہے گی۔

آبنائے ہرمز پر اختلافات برقرار

حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ رواں ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی مختلف تشریحات بتائی جا رہی ہیں، خاص طور پر آرٹیکل 5، جو آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کو منظم کرتا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران نے تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کی کوشش کرنے اور امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران امریکی وفد نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاملات پر رابطے کے لیے امریکی فوج اور ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے درمیان براہ راست ہاٹ لائن قائم کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم امریکی حکام کے مطابق یہ رابطہ نظام ابھی تک فعال نہیں ہو سکا کیونکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ عالمی تجارتی جہاز اپنی آمد و رفت کے لیے براہِ راست ایرانی حکام سے رابطہ کریں۔

مفاہمتی یادداشت کی بنیادی شرائط کی پاسداری نہیں ہوئی

ادھر ایران نے اتوار کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حالیہ امریکی حملوں سے ثابت ہوتا ہے کہ واشنگٹن نے مفاہمتی یادداشت کی بنیادی شرائط کی پاسداری نہیں کی۔ ایران کے سپریم لیڈر کے دفتر سے وابستہ مہدی فضائلی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی معطلی کی ایک وجہ منجمد ایرانی مالی اثاثوں تک حقیقی رسائی کی تصدیق بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کو ان فنڈز تک رسائی حاصل نہیں ہوتی تو اس کا مطلب ہے کہ معاہدے کی ایک اہم شرط پوری نہیں ہوئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

2 hours ago

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

4 hours ago