بین الاقوامی

Europe Heatwave 2026: یورپ میں شدید ہیٹ ویو کی تباہی، 21 جون سے 1,300 سے زائد اموات، ڈبلیو ایچ او کی سنگین وارننگ

یورپ اس وقت حالیہ برسوں کی سب سے خطرناک ہیٹ ویو کا سامنا کر رہا ہے۔ 21 جون سے اب تک شدید گرمی کے باعث 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ کئی ممالک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔ شدید گرمی نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں تیز آندھی، طوفان اور جنگلات میں لگنے والی آگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

جرمنی میں جنگلات کی آگ، فرانس میں اضافی اموات

فرانس کی سرکاری صحت ایجنسی کے مطابق گزشتہ ہفتے ریکارڈ توڑ گرمی کے دوران ملک میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ دوسری جانب جرمنی میں شدید گرمی کے باعث کئی علاقوں کے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی۔ بلند درجہ حرارت سے سڑکیں اور ریلوے ٹریک بھی متاثر ہوئے، جبکہ ہنگامی امدادی خدمات پر غیر معمولی دباؤ دیکھا گیا۔ دارالحکومت برلن میں لوگوں کو گرمی سے راحت پہنچانے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا۔

جرمنی اور جمہوریہ چیک میں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ

ہیٹ ویو اب بتدریج یورپ کے مشرقی علاقوں کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پولینڈ کی سرحد کے قریب جرمنی کے نائسے مونڈے (Neißemünde) علاقے میں درجہ حرارت 41.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو ملک کی تاریخ کا نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل جرمنی میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 40.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اسی طرح جمہوریہ چیک میں بھی 41.1 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت ریکارڈ ہوا، جسے ملک کا اب تک کا گرم ترین دن قرار دیا جا رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او: یورپ سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر کہا کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے اور یہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت تقریباً 15 کروڑ افراد شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے باعث جو خطرناک ہیٹ ویوز پہلے ایک نسل میں ایک بار آتی تھیں، اب وہ تقریباً ہر سال دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کی اپیل

ڈبلیو ایچ او نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی گرمی سے شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار پر قابو نہ پایا گیا تو آئندہ برسوں میں اس نوعیت کی ہیٹ ویوز مزید مہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ مسلسل بڑھتا ہوا درجہ حرارت، بجلی کے نظام پر بڑھتا دباؤ، اسکولوں کی بندش اور صحت کی سہولیات پر اضافی بوجھ اس بحران کی سنگینی کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Asian Games 2026: بھارتی خواتین کبڈی ٹیم کی شاندار کارکردگی جاری، ایران کو 37-23 سے شکست

بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…

58 minutes ago

Delhi NCRWeather Update: این سی آر میں گرمی سے ملے گی معمولی راحت، لیکن بڑھتی فضائی آلودگی سے سانس کے مریضوں کو خطرہ

25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…

3 hours ago