امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی اور سفارتی کشیدگی ایک انتہائی حساس مرحلے میں پہنچ گئی ہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملہ کیا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے اور اس تنازع کا دائرہ مغربی ایشیا سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔ آئی آر جی سی بحریہ کے حکام نے کہا ہے کہ ایرانی افواج خلیج فارس اور خلیج عمان میں امریکی بحری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اگر نئی جنگ شروع ہوتی ہے تو ایرانی فوج بحر ہند میں تعینات امریکی جنگی جہازوں اور ڈسٹرائرز کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔
بحر ہند تک پھیل سکتی ہے جنگ، آئی آر جی سی کی وارننگ
ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے فوجی حملے کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ آئی آر جی سی بحریہ کے افسر علی محمدی کے مطابق ایرانی فوج خلیج فارس سے لے کر خلیج عمان تک امریکی بحری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ بمباری شروع کی تو ایرانی میزائلوں اور فوج کا دائرۂ ہدف بحر ہند میں موجود امریکی بحری جہازوں اور ڈسٹرائرز تک پھیل سکتا ہے۔
’ایرانی فوج ہر صورتحال کے لیے تیار‘
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا ہے کہ ملک کی فوج کسی بھی ممکنہ ٹکراؤ یا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ دوسری جانب فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے اہم سمندری راستوں کا حوالہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کو ایران کی عزت اور وقار کی علامت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران ایسی صورتحال کو قبول نہیں کرے گا جس میں ایران کو تجارت سے روکا جائے، جبکہ غیر ملکی طاقتیں خطے کے سمندری راستوں کا آزادانہ استعمال کرتی رہیں۔
کشیدگی کے درمیان ایران نے مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھا
ایک طرف ایرانی فوج کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں، تو دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سفارتی راستہ کھلا رکھنے کا اشارہ دیا ہے۔ عراقچی نے کہا کہ ایران جنگ کو ہوا دینا نہیں چاہتا اور مذاکرات کا راستہ کبھی بند نہیں کیا گیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ان کی حکومت امن کے قیام کے حق میں ہے، تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بھی جارحانہ حملے کا بھرپور جواب دینے سے ایران پیچھے نہیں ہٹے گا۔اس طرح امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باوجود تہران کی جانب سے ایک طرف سخت فوجی انتباہ اور دوسری طرف مذاکرات کی پیشکش، دونوں بیک وقت سامنے آ رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے اپنے مضمون میں 1991 کے لوک سبھا انتخابات کی یادیں شیئر…
وزیر اعظم نے سلامتی اہلکاروں کے ساتھ دیوالی منانے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا…
صدر آئزک ہرزوگ نے یاشر پارٹی کے رہنما کو حکومت سازی کی ذمہ داری سونپی،…
وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ کسانوں کی آنکھوں سے…
پولینڈ کے صدر کارول ناوروٹسکی نے اس بھیانک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے…
سی آر پی ایف بستر کے علاقے میں نکسل ازم کے خاتمے کی کارروائیوں میں…