اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملوں کے بعد ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سید اروانی نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کو بلا اشتعال جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قوانین اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ایرانی نمائندے نے اقوام متحدہ کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملے ایران کی خودمختاری اور عالمی امن کے اصولوں پر کھلم کھلا حملہ ہیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ یہ حملہ آئی اے ای اے کی نگرانی میں کام کرنے والی جوہری تنصیبات پر کیا گیا، جو نہ صرف فوجی بلکہ اخلاقی طور پر بھی غلط ہے۔ ایران نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جارحیت کی مذمت کرے اور اس کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔
اسرائیل نے اپنی فضائی حدود بند کیں
دریں اثنا ایران کے حملوں کے پیش نظر اسرائیل میں ہائی الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے اپنی فضائی حدود تمام پروازوں کے لیے بند کر دی ہے۔ اسی دوران یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے اسرائیل کے بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ میزائل ایئرپورٹ کی حدود میں گرا جس سے سڑکوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور 6 شہری زخمی ہوئے۔
حملے کے بعد ہوائی اڈے کی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئیں اور کئی بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی گئیں یا موڑ دی گئیں۔ حوثیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ’’بین گوریون اب محفوظ نہیں ہیں۔‘‘ اسرائیل نے اس حملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ یہ حملہ علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
فروری 2026 میں سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد افغان طالبان فورسز نے پاکستانی فوجی…
بتایا جا رہا ہے کہ آئی آئی ٹی ممبئی کیمپس میں گزشتہ تقریباً 7 ماہ…
ہگلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ کلیان…
تفتیش کے مطابق سیا اور چیتن اکتوبر 2025 سے مسلسل ایک دوسرے کے رابطے میں…
ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن…
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…