قطر کی فضائیہ کے پرانے لڑاکا طیاروں کی بین الاقوامی مانگ میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے۔ جہاں ہندوستان نے قطر کے میراج 2000 جیٹ طیاروں میں دلچسپی ظاہر کی ہے، وہیں ترکیہ نے اپنے یورو فائٹر ٹائفون طیارے خریدنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں ہندوستان اور ترکیہ کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں، اس کے باوجود دونوں ایک ہی ملک سے استعمال شدہ جیٹ طیارے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ یورو ایشین ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق مڈل ایسٹ آئی نے 7 اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ ترکیہ قطر کے ساتھ سیکنڈ ہینڈ یورو فائٹر ٹائفون جیٹ طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر بات کر رہا ہے۔ بات چیت جاری ہے اور امید ہے کہ جلد ہی معاہدہ طے پا جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتوں نے سرکاری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ترکیہ آئیز یورو فائٹر ٹائفون
ترکیہ وزیر دفاع یاسر گلر اور فضائیہ کے کمانڈر جنرل ضیاء کمال کادیوگلو نے حال ہی میں دوحہ کا دورہ کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس دورے کا مقصد قطر سے 10 سے 15 Tranche 3A Eurofighter Typhoon طیاروں کے معاہدے پر بات چیت کرنا ہے۔ قطر اس وقت 24 یورو فائٹر ٹائفون ٹرینچ 3A جیٹ طیارے کا کرتا ہے اور اس نے 12 اضافی ٹرنچ 4 جیٹس کا آرڈر دیا ہے۔ اس کے علاوہ قطر کی فضائیہ کے پاس F-15QA اور فرانسیسی رافیل جیسے جدید طیارے بھی ہیں۔ ترکیہ کو اس معاہدے کی ضرورت ہے کیونکہ اس کے امریکی لڑاکا طیاروں کا بیڑہ F-16 اب پراناہو چکا ہے اور اسے F-35 پروگرام سے باہر کر دیا گیا ہے۔ اس کا اپنا KAAN اسٹیلتھ لڑاکا ابھی بھی ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ اس لیے قطر کے یہ جیٹ طیارے ترکیہ فضائیہ کے لیے ایک بڑی راحت ثابت ہو سکتے ہیں۔
ترکیہ اور قطر کے تعلقات کیسے ہیں؟
ترکیہ اور قطر کے درمیان طویل عرصے سے مضبوط اسٹریٹجک تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور اقتصادی شراکت داری 2010 کی دہائی کے اوائل سے بڑھی ہے۔ ترکیہ قطر کے علاقے تراقیہ میں ایک فوجی اڈہ ہے، جس میں تقریباً 3000 فوجی موجود ہیں۔ قطر نے ترکیہ سے ڈرون اور بکتر بند گاڑیاں بھی خریدی ہیں۔ دونوں ممالک دفاعی پیداوار میں بھی شراکت دار ہیں۔ اس اسٹریٹجک شراکت داری نے قطر کو ترکیہ کے ساتھ اپنے پرانے طیارے فروخت کرنے کے لیے کھل کر مذاکرات کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ طیارے ہندوستان کے لیے کیوں اہم ہیں؟
میراج 2000 طیاروں کو طویل عرصے سے ہندوستانی فضائیہ کی ریڑھ کی بیک بون سمجھے جاررہے ہیں ۔ ان کا ہیڈ کوارٹر گوالیار ایئر بیس پر ہے۔ یہ فرانسیسی ساختہ طیارے 1985 میں آئی اے ایف میں شامل ہوئے اور اس کے بعد سے متعدد مشن میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ ہندوستان کے پاس اس وقت تقریباً 45 سے 50 Mirage-2000 طیارے ہیں۔ اگر قطر کے ساتھ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ تعداد 60 سے زیادہ ہو جائے گی جس سے بحری بیڑے کو مزید تقویت ملے گی۔ میراج طیاروں نے بالاکوٹ فضائی حملے جیسے تاریخی آپریشن میں بھی اہم کردار ادا کیا جس سے ان کی افادیت اور اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ہندوستان اور ترکیہ کے درمیان اسٹریٹجک مقابلہ
ہندوستان اور ترکیہ دونوں کی طرف سے ایک ہی ملک سے جیٹ طیارے خریدنے کی کوشش جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے بھی دلچسپ ہے۔ جہاں ترکیہ پاکستان کو اپنی فوجی امداد اور بھارت مخالف بیان بازی کے لیے جانا جاتا ہے، وہیں بھارت نے حالیہ برسوں میں ترکی مخالف ممالک جیسے یونان، آرمینیا اور قبرص کے ساتھ تعلقات مضبوط کیے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…