بین الاقوامی

India To Buy Venezuelan Oil Claims Trump: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نیا دعویٰ- بھارت ایران کے بجائے وینزویلا سے خریدے گا تیل

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت آئندہ ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا، جس سے نہ صرف کاراکاس کو اقتصادی فائدہ پہنچے گا بلکہ نئی دہلی ایرانی تیل سپلائی سے بھی دور ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی توانائی منڈی اور جغرافیائی سیاست میں ممکنہ تبدیلیوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔ مقامی وقت کے مطابق ہفتہ کے روز ایئر فورس ون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے یہ بات کہی۔ وینزویلا سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کی حکومت اس ملک کی قیادت کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا، ’’ہم پہلے ہی ایک معاہدہ کر چکے ہیں۔ بھارت آ رہا ہے اور وہ ایران سے خریدنے کے بجائے وینزویلا کا تیل خریدے گا‘‘۔

تاہم صدر ٹرمپ کے اس بیان پر بھارت کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے وینزویلا کی عبوری قیادت سے ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی، جس کے بعد ٹرمپ کے اس دعوے کو مزید اہمیت دی جا رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ چین کو بھی وینزویلا سے تیل خریدنے کے لیے خوش آمدید کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا، ’’چین اگر آئے اور تیل خریدے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں‘‘۔ انہوں نے وینزویلا کے توانائی شعبے میں بڑی بین الاقوامی شراکت داری کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق اس سے عالمی توانائی بہاؤ میں نئی سمت متعین ہو سکتی ہے، جس میں بھارت مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔

امریکی صدر نے واضح طور پر وینزویلا سے بھارت کی ممکنہ تیل خریداری کو ایران کی برآمدات میں کمی سے جوڑا، تاہم انہوں نے اس حوالے سے معاہدے کی مدت، مقدار یا عملی طریقہ کار کی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ تیل کی فروخت بڑھنے سے وینزویلا کو مالی فائدہ ہوگا اور ملک پہلے سے کہیں زیادہ آمدنی حاصل کرے گا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وینزویلا میں مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں اور ان کی حکومت نے فضائی حدود کھولنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے حوالے سے سخت مؤقف دہراتے ہوئے کہا کہ امریکہ بات چیت کے ساتھ ساتھ کارروائی کے لیے بھی تیار ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ایران کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا ہوگا۔ دیگر امور پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایپسٹین کیس سے متعلق سوال پر مصنف مائیکل وولف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ وولف اور ممکنہ طور پر ایپسٹین اسٹیٹ کے خلاف قانونی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ چین کی قیادت پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین میں ایک ہی باس ہے اور وہ صدر شی جن پنگ ہیں۔ گرین لینڈ کے حوالے سے ٹرمپ نے بتایا کہ بات چیت شروع ہو چکی ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ سب کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Sibghatullah

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago