بین الاقوامی

’’ہند-پاک ختم کریں کشیدگی، کھولیں ایئر اسپیس…‘‘ 100 سے زیادہ سرکردہ شخصیات نے وزیراعظم مودی اور شہباز شریف کو بھیجا خط

ہندوستان اورپاکستان کے درمیان رشتے پھر سے معمول کے مطابق ہوں، اس سے متعلق دونوں ممالک کے 100 سے زیادہ ناموراورسرکردہ شخصیات نے وزیراعظم مودی اور پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف (دونوں ممالک کے وزیراعظم) کوخط لکھا ہے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ختم ہواورویزا سروس پھرسے شروع کی جائے۔ اس کے علاوہ ایئراسپیس کو بھی دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط میں جموں وکشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ اورمحبوبہ مفتی کے علاوہ میر واعظ عمرفاروق اورآرجے ڈی رکن پارلیمنٹ منوج جھا سمیت 117 لوگوں نے دستخط کئے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی اورپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو یہ کھلا خط ’’سینٹرفارپیس اینڈ پروگریس‘‘ کی طرف سے لکھا گیا ہے، جس پرکل 117 شخصیات نے دستخط کئے ہیں۔ اس خط کے ذریعہ ہندوستان اورپاکستان کے درمیان امن، معمول، بات چیت اورتعاون کی بحالی کے لئے ٹھوس اورطویل مدتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس خط میں لیڈران نے ڈیجیٹل فارمیٹ میں دستخط کیا ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ اس مہم میں پاکستان کی طرف سے 56 اہم شخصیات نے کھلے خط پردستخط کئے ہیں۔ اس میں پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارت کاراشرف جہانگیر قاضی، رکن قومی اسمبلی اسفن یاربھنڈارا اورایٹمی سائنسدان پرویزہودبھائے دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان تمام تعلقات منقطع

اس کھلے خط پردستخط کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی نوجوان نسل جاری کشیدگی کی سب سے بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ اس سے ان کے مواقع، ترقی اورمحفوظ مستقبل متاثرہورہی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے گزشتہ سال پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستان کے ساتھ تمام بات چیت معطل کردی تھی۔ پاکستان کے ساتھ اب کوئی سیاسی، تجارتی یا سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ جب دونوں ممالک بین الاقوامی مقابلوں میں آمنے سامنے ہوتے ہیں توہندوستانی کھلاڑی، پاکستانی کھلاڑیوں سے مصافحہ کرنے سے انکارکرتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ منسوخ ہونے سے پاکستان بے چین

آپ کو بتا دیں کہ پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد سے سندھ طاس معاہدہ منسوخ ہونے کے فیصلے سے پاکستان بہت پریشان ہے۔ یہ پاکستان کی دکھتی رگ ہے، جس سے وہ بہت ہراساں اورپریشان ہے۔ پاکستانی حکومت کے وزراء، اس کے آرمی چیف اوردیگرلیڈران بھی بھارت کو دریائے سندھ پرجنگ کی دھمکیاں دیتے ہوئے نظرآتے ہیں۔ خط میں دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی، نئی دہلی اوراسلام آباد میں ہائی کمشنرزکی دوبارہ تقرری اورشہریوں کے لئے باقاعدہ ویزا سروسیزدوبارہ شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے، لوگوں کے درمیان رابطے بڑھانے اور مذہبی وثقافتی تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

4 hours ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

5 hours ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

5 hours ago