بین الاقوامی

PM Modi Visit Norway: ”ہم بھی دہشت گردی کا درد سمجھتے ہیں…“، وزیر اعظم مودی کے دورۂ ناروے کے دوران وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور کا بڑا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ ناروے کے دوران ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور نے کہا ہے کہ بھارت اور ناروے کے تعلقات نئی بلندیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ”گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ“ مستقبل کے عالمی چیلنجوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے دہشت گردی، روسی تیل، یوکرین جنگ اور آرکٹک تحقیق جیسے اہم عالمی مسائل پر بھی بھارت کے ساتھ تعاون بڑھانے کے اشارے دیے۔ وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور نے کہا کہ بھارت کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت، نوجوان آبادی اور علم پر مبنی ترقی دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور ناروے صاف توانائی، پائیدار ترقی، بلیو اکانومی، گرین شپنگ اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔

دہشت گردی کے مسئلے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ناروے کے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کو دہشت گردی کی ہر شکل کے خلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ناروے خود بھی دہشت گردی کے دردناک تجربے سے گزر چکا ہے۔ انہوں نے پندرہ برس قبل ہونے والے اس دہشت گرد حملے کا ذکر کیا جس میں سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور کئی بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ جوناس گہر اسٹور نے کہا کہ جن ممالک نے دہشت گردی کا دکھ جھیلا ہے، وہ اس تکلیف کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے بھارت سمیت دہشت گردی سے متاثر تمام ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی امن اور استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کارروائی ضروری ہے۔

روسی خام تیل کی بھارت کی جانب سے خریداری کے سوال پر ناروے کے وزیر اعظم نے متوازن ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے روس کے ساتھ تاریخی تعلقات ہیں اور وہ اس حقیقت کا احترام کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت ایک بڑی معیشت ہے جس کی توانائی کی ضروریات بھی بہت وسیع ہیں، اس لیے اسے اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ناروے کی رائے میں یوکرین میں جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے روس پر مزید دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جنگ نہ صرف یوکرین بلکہ پوری دنیا میں غیر یقینی صورتحال، معاشی دباؤ اور انسانی بحران پیدا کر رہی ہے۔

آرکٹک کونسل اور موسمیاتی تحقیق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جوناس گہر اسٹور نے کہا کہ روس-یوکرین جنگ کے باعث آرکٹک کونسل کے کام کاج پر بھی اثر پڑا ہے اور کئی شعبوں میں تعاون محدود ہو گیا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے بھارت کی سائنسی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ناروے چاہتا ہے کہ بھارت آرکٹک خطے میں موسمیاتی تحقیق میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی سائنسی مہارت اور تحقیقی صلاحیتیں آرکٹک ریسرچ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق آرکٹک خطے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر براہ راست بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک پر پڑتا ہے، اس لیے اس میدان میں بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

CEC Gyanesh Kumar Dispute: انتخابی کمیشن کے وہ 2 افسر جنہوں نے فیصلوں پر اٹھائے سوال، جانیے سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی پوری پروفائل

انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…

26 minutes ago

Impeachment Notice Against CEC: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مواخذے کا نوٹس: کیا ہے معاملہ؟

اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…

2 hours ago