وزیر اعظم نریندر مودی نے ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں آئس لینڈ کی وزیر اعظم کرسٹرون فراسٹاڈوٹیر کے ساتھ ایک اہم دو طرفہ ملاقات کی، جس میں بھارت اور نارڈک ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، گرین انرجی، تجارت، ٹیکنالوجی اور علاقائی تعاون جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس ملاقات کو بھارت اور نارڈک خطے کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس اعلیٰ سطحی ملاقات میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، خارجہ سکریٹری وکرم مصری اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم مودی اس وقت ناروے کے دو روزہ دورے پر ہیں، جہاں ان کی توجہ نارڈک ممالک کے ساتھ بھارت کے سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچانے پر مرکوز ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق یہ ملاقات 2018 میں اسٹاک ہوم اور 2022 میں کوپن ہیگن میں منعقدہ بھارت-نارڈک سربراہ اجلاسوں کے تسلسل کا حصہ ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی حالات میں ٹیکنالوجی، اختراع، ماحول دوست ترقی اور توانائی کے متبادل ذرائع پر تعاون انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ملاقات کے دوران گرین ٹرانزیشن، قابل تجدید توانائی، بلیو اکانومی، دفاع، خلائی تحقیق اور آرکٹک خطے میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت اور نارڈک ممالک کے درمیان سائنسی تحقیق، ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے میدان میں اشتراک دونوں خطوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے اوسلو میں منعقدہ ”بھارت-ناروے بزنس اینڈ ریسرچ سمٹ“ میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن یعنی ای ایف ٹی اے کے درمیان تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کو دونوں خطوں کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے تجارت، سرمایہ کاری، اختراع اور صنعتی اشتراک کے نئے دروازے کھلیں گے۔ اس سمٹ میں پچاس سے زائد بڑی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران اور بھارت و ناروے کے تجارتی اور تحقیقی شعبوں سے تعلق رکھنے والے 250 سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام کے دوران دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان کئی اہم معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے، جنہیں مستقبل میں اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی کے ناروے پہنچنے پر ناروے کے وزیر اعظم جوناس گہر اسٹور نے خود ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا، جسے سفارتی حلقوں میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اپنے دورے کے دوران وزیر اعظم مودی نے اوسلو کے شاہی محل میں ناروے کے بادشاہ کنگ ہیرالڈ پنجم سے بھی ملاقات کی۔ وزیر اعظم دفتر کے مطابق اس ملاقات میں نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، عالمی چیلنجز اور باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر کہا کہ بھارت اور ناروے کی دیرینہ دوستی مشترکہ اقدار، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ملک کے کئی حصوں میں بارش اور تیز ہواؤں نے لوگوں کی مشکلات بڑھا دی…
اپوزیشن کی جانب سے نئے نوٹس کا مسودہ تیار، قانونی ماہرین سے کرائی جا رہی…
اپوزیشن نے مارچ میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں گیانیش کمار کو عہدے سے…
پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ شہریوں کے لیے…
اسرائیلی وزیر اعظم نے نیویارک کے میئر زوہران ممدانی پر یہود مخالف جذبات کو ہوا…
مرکزی وزیر ہرش ملہوترا نے نئی دہلی سے ’یوتھ سیفٹی اینڈ اسمارٹ موبلٹی مہم 2026‘…