بین الاقوامی

India-Nordic Summit 2026: انڈیا-نورڈک سمٹ 2026 عالمی ٹیکنالوجی گورننس کے نئے اصول طے کرنے میں اہم ثابت ہوگی

نئی دہلی: ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں منعقد ہونے والی تیسری انڈیا-نورڈک سمٹ 2026 کو عالمی ٹیکنالوجی گورننس اور مصنوعی ذہانت کے ضابطوں کی تشکیل کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سمٹ نے یہ واضح اشارہ دیا ہے کہ بھارت اب صرف عالمی قوانین پر عمل کرنے والا ملک نہیں رہا بلکہ وہ ڈیجیٹل اور اے آئی گورننس کے عالمی اصولوں کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق نورڈک ممالک کے رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو گرین ٹیکنالوجی، اختراعات اور اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ ان ممالک کا ماننا ہے کہ بھارت کے ساتھ سپلائی چین، تحقیق، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے سے نہ صرف معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست میں بھی نئی مضبوطی پیدا ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بھارت کو جامع ڈیجیٹل اختراعات کی ایک بڑی تجربہ گاہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں ایک ارب سے زیادہ لوگوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات تیار کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ناروے اور دیگر نورڈک ممالک کو ہائی ٹیک، گرین ٹیکنالوجی اور شفاف حکمرانی کے میدان میں مہارت رکھنے والے مضبوط شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئی دہلی میں حال ہی میں منعقد ہونے والی ”اے آئی امپیکٹ سمٹ“ نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت اب صرف مغربی ممالک کے بنائے ہوئے ضابطوں پر انحصار نہیں کر رہا بلکہ اپنی الگ اے آئی گورننس پالیسی تیار کر رہا ہے۔ بھارت نے اس عمل میں گلوبل نارتھ اور گلوبل ساؤتھ دونوں خطوں کے ممالک کو شامل ہونے کی دعوت بھی دی ہے، جس سے اس کی عالمی قیادت کی خواہش واضح ہوتی ہے۔ اوسلو سمٹ کا مرکزی موضوع ”جامع اور انسان پر مبنی مصنوعی ذہانت“ تھا، جو نورڈک ممالک کی سماجی جمہوری ٹیکنالوجی پالیسیوں اور بھارت کے اے آئی امپیکٹ ڈکلیریشن کے درمیان بڑھتی ہوئی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس مشترکہ سوچ میں انسانی وسائل کی ترقی، شمولیت، قابل اعتماد اے آئی اور ٹیکنالوجی کے جمہوری استعمال پر زور دیا گیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ نظریہ واشنگٹن اور برسلز میں جاری زیادہ تر سکیورٹی پر مبنی مباحثوں سے کافی مختلف ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کا ایک مضبوط نظام تیار کیا ہے۔ اس میں آدھار شناختی نظام، فوری ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے یو پی آئی اور اوپن اے پی آئی پلیٹ فارمز شامل ہیں، جن کی مدد سے نجی کمپنیاں سرکاری پلیٹ فارمز پر نئی خدمات تیار کر رہی ہیں۔ یہ نظام اب ایک ارب سے زیادہ افراد کے لیے فلاحی اسکیموں، مالی شمولیت اور روزمرہ لین دین کی بنیاد بن چکے ہیں۔ بھارتی ڈیجیٹل ماڈل کو اب ایشیا اور افریقہ کے کئی ممالک بھی اپنا رہے ہیں۔ اوپن سورس شناختی پلیٹ فارم ”موسیپ“ اور ویکسین سرٹیفکیشن سسٹم جیسے منصوبے بھارت کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کی مثال سمجھے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل ترقی پذیر ممالک کے لیے کم لاگت اور زیادہ مؤثر حل فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ میں ناروے کی مضبوط ڈیٹا سکیورٹی اور شہری آزادیوں کی روایات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ناروے بھارت کو ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور مصنوعی ذہانت کے تجربات میں مزید مضبوط حفاظتی اقدامات اپنانے کے لیے حوصلہ دے سکتا ہے۔ اس تعاون سے دونوں ممالک ایک متوازن اور محفوظ ڈیجیٹل نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ ادھر نورڈک کمپنیاں بڑھتی ہوئی لاگت اور سپلائی چین کے مسائل کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے میں بھارت میں پیداوار، تحقیق اور ڈیولپمنٹ سرگرمیوں کو وسعت دینے سے چین پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نورڈک ممالک بھارت کی وسیع ایس ٹی ای ایم افرادی قوت، ڈیٹا صلاحیتوں اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے اے آئی ریگولیٹری نظام سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے، جس سے دونوں خطوں کے تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

بھارت ایکپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Balika Vadhu: ’بالیکا ودھو‘ کے 18 سال، چھوٹی آنندی بنیں اسٹار، ایک نے خودکشی کی تو دو فنکاروں کا ہوگیا انتقال

کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…

11 minutes ago

Nasha Mukt Punjab Yatra: نشہ مکت پنجاب یاترا، 30 ستمبر کو جالندھر میں امت شاہ کریں گے اختتامی پروگرام سے خطاب

بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…

55 minutes ago

PK Party Announces Bihar MLC: پی کے کا بڑا قدم، نیرج کمار کے خلاف جن سوراج نے اتارا امیدوار، اننت سنگھ کی بھی حمایت

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…

1 hour ago

Mahua Moitra Files Complaint Against CEC: مہوا موئترا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف درج کرائی پولیس شکایت

ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلوں میں طریقۂ کار کی…

3 hours ago