واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ ایران کے نئے رہنما سکون سے زندگی گزار سکیں گے۔ امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث ایران کی موجودہ قیادت کے لیے حالات آسان نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر حالیہ امریکی حملے ضروری تھے کیونکہ ان کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کا خطرہ موجود تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں میں ایران کی تقریباً پچاس فیصد میزائل صلاحیت کو تباہ کر دیا گیا۔ ان کے مطابق اگر یہ کارروائی نہ کی جاتی تو صورتحال زیادہ خطرناک ہو سکتی تھی اور ایران چند دنوں کے اندر حملے کر سکتا تھا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا امکان موجود ہے، لیکن یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ بات چیت کن شرائط پر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بات چیت ضروری نہیں لیکن مستقبل میں اس کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد قیادت کی تبدیلی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی اور اسرائیلی اہداف پر جوابی کارروائیاں کی گئیں۔ ان حملوں میں ایران کی حکومت کے کئی اعلیٰ رہنما بھی مارے گئے۔ ایران کی مذہبی مجلس اسمبلی آف ایکسپرٹس نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ 56 سالہ عالم دین مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔ اس تقرری کے ساتھ ہی مجتبیٰ خامنہ ای ایران کی تاریخ میں اسلامی جمہوریہ کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سی جے پی لیڈر سورو داس اور آشوتوش رانکا نے اپنی عدالتی حراست کے خلاف…
عرضداشت میں اس بات پرخصوصی زوردیا گیا ہے کہ مسجد اوراس کے آس پاس آباد…
لکھنؤ کے شیوا شرما کی موت کے معاملے میں مفرور شردھا دوبے کو اتر پردیش…
حکومت کا خیال ہے کہ بھارت-نیوزی لینڈ ایف ٹی اے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات…
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی قیادت میں آلودگی پر قابو پانے کے لیے جامع منصوبہ…
وزیر اعظم نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے خیالات کا اظہار…