بین الاقوامی

Ibadi Muslims: دنیا کے مسلمانوں سے کتنے مختلف ہیں عمان کے اباضی مسلمان؟ جہاں پہنچے ہیں وزیر اعظم مودی

حال ہی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے عمان کے دورے کے دوران اباضی مسلک نے ایک بار پھر دنیا بھر کے دانشوروں اور عام لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ عمان کی شناخت ہی اباضیت سے وابستہ ہے، اور اس کو سمجھے بغیر نہ تو وہاں کے معاشرے، نہ سیاست اور نہ ہی اس کی پُرامن ثقافت کو صحیح طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔

اباضی مسلک کیا ہے؟

اباضی مسلک کوئی ذیلی شاخ نہیں بلکہ ایک آزاد اور نہایت قدیم روایت ہے۔ اباضی مسلمان خود کو نہ سنی کہتے ہیں اور نہ شیعہ، بلکہ صرف مسلمان کہلانا پسند کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ اسلام کی اسی ابتدائی اور خالص روح کے قریب ہیں جو سادگی اور انصاف پر قائم تھی۔ اباضیت کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا اعتدال پسند ہونا ہے۔ یہ نہ تو انتہا پسند ہیں اور نہ ہی دنیا سے کنارہ کش۔ ان کے نزدیک دین  میں عملی زندگی کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ کسی حکمران کی عزت اس کے خاندان یا نسب سے نہیں بلکہ اس کے عدل و انصاف اور دیانت داری سے طے ہوتی ہے۔

تاریخ کے اوراق میں اس کی ابتدا

اباضی مسلک کی تاریخ تقریباً 1300 سے 1400 سال پرانی ہے۔ اس کی جڑیں چوتھے خلیفہ حضرت علیؓ کے دور میں پیدا ہونے والے سیاسی اختلافات سے منسلک  ہیں۔ اس زمانے میں جب جنگ کے دوران ثالثی کا راستہ اختیار کیا گیا تو کچھ لوگ اس فیصلے سے ناراض ہو کر الگ ہو گئے، جنہیں خوارج کہا گیا۔تاہم اباضی خود کو ان سخت گیر خوارج سے الگ مانتے ہیں۔ اباضیت دراصل ان لوگوں کی فکر کی نمائندگی کرتی ہے جنہوں نے تشدد کے بجائے انصاف اور توازن کو ترجیح دی۔ اس مسلک کا نام ساتویں صدی کے عالم عبداللہ بن اباض کے نام پر رکھا گیا، جنہوں نے اس دور کی آمریت کے خلاف آواز بلند کی تھی۔

اباضیت کا سب سے مضبوط گڑھ: عمان

آج اگر دنیا کے نقشے پر اباضی اسلام کو دیکھیں تو عمان اس کا سب سے نمایاں مرکز ہے۔ عمان کی اکثریتی آبادی اباضی ہے، لیکن وہاں سنی اور شیعہ بھی مکمل احترام کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمان کو عرب دنیا کا سب سے پُرامن اور متوازن ملک سمجھا جاتا ہے۔ عمان کی خارجہ پالیسی بھی اسی فکر کی عکاس ہے—وہ ہمیشہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ چاہے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی ہو یا خلیجی ممالک کے باہمی اختلافات، عمان اکثر ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔

دنیا میں اور کہاں ہیں اباضی مسلمان؟

عمان کے علاوہ اباضی برادری شمالی افریقہ کے چند علاقوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ الجزائر کی خوبصورت وادیِ مزاب، تیونس کا جزیرہ جربا اور لیبیا کے پہاڑی علاقے ان کی قدیم بستیوں کے مراکز ہیں۔ سمندری تجارت کے ذریعے یہ مسلک مشرقی افریقہ کے زنجبار تک بھی پہنچا، جہاں آج بھی اس کی تاریخی موجودگی محسوس کی جا سکتی ہے۔

آج کے دور میں اسے سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

آج جب دنیا مذہبی نفرت اور انتہاپسندی سے دوچار ہے، اباضی مسلک ایک مثال پیش کرتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دین صرف عبادات کے طریقوں کا نام نہیں بلکہ باہمی رواداری اور انصاف بھی اس کا لازمی حصہ ہیں۔ بھارت اور عمان کے تعلقات صرف تیل یا تجارت تک محدود نہیں، بلکہ ان کے درمیان گہری ثقافتی وابستگی بھی موجود ہے۔ جب بھارت کے وزیر اعظم عمان کا دورہ کرتے ہیں تو وہ ایک ایسے معاشرے سے روبرو ہوتے ہیں جو اپنی شناخت پر قائم رہتے ہوئے بھی پوری دنیا کو ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Union Home Minister Amit Shah: بنگال جینتی پر امت شاہ نے ایشور چندر ودیا ساگر کو پیش کی خراج تحسین

امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…

1 hour ago

Dr. Manmohan Singh: پی ایم مودی، ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی سمیت کئی لیڈروں نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یوم پیدائش پر کیا یاد

کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…

2 hours ago

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

4 hours ago