بیرون ملک سفر کرنے والے بھارتی شہریوں کے لیے ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ اب بھارتی شہریوں کو جرمن ہوائی اڈوں کے ذریعے کسی تیسرے ملک کا سفر کرتے وقت ایئرپورٹ ٹرانزٹ ویزا حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ نئی دہلی میں جرمن سفارت خانے کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں اس فیصلے کی تصدیق کی گئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور عوامی روابط کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارت خانے کے مطابق بھارتی شہری اب جرمنی کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر مختصر قیام یا ’’لے اوور‘‘ کے دوران بغیر ٹرانزٹ ویزا کے اپنی اگلی پرواز کے لیے سفر جاری رکھ سکیں گے۔ اس فیصلے سے ہزاروں بھارتی مسافروں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جو یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک کے سفر کے دوران جرمن ہوائی اڈوں کو ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ فضائی سفر میں ’’لے اوور‘‘ سے مراد وہ عارضی وقفہ ہوتا ہے جب مسافر اپنی آخری منزل تک پہنچنے سے پہلے کسی دوسرے ہوائی اڈے پر چند گھنٹوں یا محدود وقت کے لیے رکتے ہیں۔ طویل بین الاقوامی پروازوں میں یہ ایک عام عمل ہے اور بہت سے مسافروں کو اس دوران ٹرانزٹ ویزا کے حصول کے پیچیدہ مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ جرمن سفارت خانے کے مطابق بھارتی شہریوں کے لیے ایئرپورٹ ٹرانزٹ ویزا کی شرط ختم کرنے کا اعلان 2 جون کو جرمنی کے وفاقی سرکاری گزٹ میں شائع کیا گیا، جبکہ یہ فیصلہ 3 جون سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت کو مزید آسان بنانا اور سفری رکاوٹوں کو کم کرنا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ فیصلہ رواں سال جنوری میں جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے دورۂ بھارت کے بعد سامنے آنے والی مثبت پیش رفت کا نتیجہ ہے۔ جرمن حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام جرمنی اور بھارت کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، اقتصادی روابط کو فروغ دینے اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں کو آسان بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ چانسلر فریڈرک مرز کے دورۂ بھارت کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور جرمن قیادت کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اسٹریٹجک تعاون سے متعلق کئی اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا خیر مقدم کیا تھا کہ 2024 میں بھارت اور جرمنی کے درمیان تجارتی حجم ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا اور امید ظاہر کی تھی کہ یہ مثبت رجحان 2025 میں بھی برقرار رہے گا۔ اس دورے کے دوران تجارت، ٹیکنالوجی، صحت، ماحولیات اور قابلِ تجدید توانائی سمیت مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے مجموعی طور پر 19 معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں طے کیں، جن کا مقصد اقتصادی، اسٹریٹجک اور عوامی سطح پر تعاون کو مزید وسعت دینا تھا۔
دونوں ممالک نے بھارت-مشرق وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری (آئی ایم ای سی) منصوبے کے لیے بھی اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ رہنماؤں نے اس منصوبے کو عالمی تجارت، رابطہ کاری اور اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا اور اس سلسلے میں آئندہ وزارتی اجلاس سے مثبت نتائج کی توقع ظاہر کی۔ مشترکہ بیان میں دفاعی تعاون کے شعبے کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی۔ دونوں فریقوں نے دفاعی صنعتی تعاون کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جس کے تحت جدید دفاعی ٹیکنالوجی، آلات کی مشترکہ تیاری اور صنعتی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔ بھارت نے دفاعی سازوسامان کی برآمدات کے لیے منظوری کے عمل کو تیز کرنے کی جرمن کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔ ماہرین کے مطابق ٹرانزٹ ویزا کی شرط کا خاتمہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور مضبوط ہوتے تعلقات کی ایک نمایاں مثال ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…
ممتا بنرجی نے بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا، انہوں نے پہلے ہی…
نٹھاری قتل معاملے سے متعلق آخری کیس میں بھی سریندر کولی کو سپریم کورٹ سے…
عدالت نے کہا کہ انتخابی ضابطوں کی ان خلاف ورزیوں کے لیے اجتماعی انتخابی ہرجانہ…