بین الاقوامی

Former South Korean sentenced to five years in prison: جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک یول کو پانچ سال قید کی سزا، مارشل لا نافذ کرنے کے معاملے کیں عدالت کا پہلا فیصلہ

سیول: جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک یول کو جمعہ کے روز پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سابق صدر پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ برس اپنی حراست سے متعلق تفتیشی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ سابق جنوبی کوریائی صدر نے دسمبر 2024 میں اپنے دورِ اقتدار کے دوران مارشل لا نافذ کیا تھا۔ اسی معاملے میں سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے یون کے خلاف یہ پہلا فیصلہ سنایا ہے۔

یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق، یہ سزا اس مطالبے سے آدھی ہے جو خصوصی وکیل چو یون سوک کی ٹیم نے گزشتہ ماہ کی تھی۔ یون سوک کی ٹیم نے الزام لگایا تھا کہ سابق صدر نے اپنے مجرمانہ اقدامات کو چھپانے اور انہیں درست ثابت کرنے کے لیے سرکاری اداروں کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا، جو ایک سنگین جرم ہے۔

سماعت کے دوران جج بیک دے ہیون نے یون کے خلاف عائد الزامات اور ہر الزام پر عدالت کے فیصلے کی تفصیل پیش کی۔ یون پر متعدد الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں گزشتہ سال جنوری میں صدارتی سکیورٹی سروس کو یہ حکم دینا شامل تھا کہ وہ تفتیش کاروں کو انہیں حراست میں لینے کے وارنٹ پر عمل درآمد سے روکیں، مارشل لا کے منصوبے کے جائزے کے لیے بلائی گئی میٹنگ میں نو کابینہ اراکین کو شامل نہ کرنا، اور مارشل لا کے حکم کی واپسی کے بعد ایک ترمیم شدہ اعلان کا مسودہ تیار کر کے بعد میں اسے تباہ کرنا شامل ہے۔

باقی تمام الزامات میں قصوروار ہیں یون

اس کے علاوہ، سابق صدر پر اعلان سے متعلق جھوٹے پریس بیانات تقسیم کرنے اور اُس وقت کے فوجی کمانڈروں کی جانب سے استعمال کیے جانے والے سکیور فونز سے ریکارڈ حذف کرنے کا حکم دینے کا بھی الزام تھا۔ جج نے کہا کہ نو کابینہ اراکین میں سے دو کے حقوق کی خلاف ورزی اور جھوٹے پریس بیانات تقسیم کرنے کے حکم کے علاوہ، یون کو باقی تمام الزامات میں قصوروار قرار دیا گیا ہے۔

بغاوت کے الزام میں سزائے موت کا مطالبہ

عدالت نے یہ بھی فیصلہ سنایا کہ اعلیٰ عہدیداروں کے لیے بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے دفتر نے گزشتہ سال اُس وقت کے صدر کے خلاف حراستی وارنٹ کی جانچ اور اس پر عمل درآمد کے دوران اپنے اختیارات کے دائرے میں رہ کر کام کیا۔ اس فیصلے کا اثر اگلے ماہ آنے والے ایک اور اہم فیصلے پر پڑنے کی توقع ہے۔ خصوصی استغاثہ نے اسی ہفتے کے آغاز میں بغاوت کے الزام میں یون کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت اس معاملے پر 19 فروری کو فیصلہ سنائے گی۔

یون کے خلاف زیر سماعت ہیں آٹھ مقدمات

سابق صدر کے خلاف مجموعی طور پر آٹھ مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جن میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش، ان کی اہلیہ پر مبینہ بدعنوانی کے الزامات، اور 2023 میں ایک میرین کی موت سے متعلق مقدمہ شامل ہے۔ یہ تیسرا موقع تھا جب کسی سابق صدر کے مقدمے کی کارروائی براہِ راست نشر کی گئی۔ اس سے قبل 2018 میں سابق صدور پارک گیون ہی اور لی میونگ باک کے بدعنوانی کے مقدمات میں سزا سنانے کی سماعت ٹی وی پر دکھائی گئی تھی۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Maulana Arshad Madani on UCC: یو سی سی پر مولانا ارشد مدنی نے اٹھائے سوال، کہا- ملک آئین سے چلے گا یا کسی سیاسی جماعت کے ایجنڈے سے؟

مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…

46 minutes ago

UPI Charge Rule: یو پی آئی کے نئے قواعد، کس سے، کب، کتنا اور کہاں وصول کیا جائے گا چارج؟

حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…

47 minutes ago