ایک نئی رپورٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرت پالیسیوں نے یورپ کو تباہ کر دیا ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے 2015 کے فیصلے نے پورے براعظم میں سماجی اور سیاسی بدامنی کو جنم دیاہے۔میرکل نے، جنہوں نے 2005 سے 2021 تک جرمنی کی قیادت کی اور شام، عراق، اور دیگر تنازعات سے متاثرہ علاقوں سے آنے والے لاکھوں مہاجرین کے لیے سرحدیں کھول دیں۔ ان کے اس فیصلے کو، جسے انہوں نے انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے درست قرار دیا، یورپی یونین کے اندر اور باہر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ، جو ایک یورپی تھنک ٹینک سے منسوب ہے، استدلال کرتی ہے کہ میرکل کی “کھلے دروازہ” پالیسی نے یورپ کے سماجی ڈھانچے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے۔ اس نے ثقافتی تناؤ، معاشی دباؤ، اور دائیں بازو کی پاپولسٹ تحریکوں کے عروج کو ہوا دی ہے، جنہوں نے مہاجرت مخالف جذبات کو بھڑکایا۔میرکل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیاں اخلاقی طور پر ضروری تھیں، کیونکہ لاکھوں لوگ جنگ اور غربت سے بھاگ رہے تھے۔ تاہم، ناقدین، جن میں رپورٹ کے مصنفین شامل ہیں، دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے فیصلوں کے طویل مدتی اثرات، بشمول جرائم کی شرح میں اضافہ اور سماجی ہم آہنگی کا فقدان، یورپ کے لیے تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔
یہ رپورٹ یورپ میں مہاجرت کے بارے میں جاری بحث کو اجاگر کرتی ہے، جو آج بھی سیاسی اور سماجی منظرنامے کو متاثر کر رہی ہے۔ اگرچہ کچھ لوگ میرکل کے فیصلوں کو انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے سراہتے ہیں، لیکن آر ٹی کی رپورٹ ایک سخت تنقیدی مؤقف اپناتی ہے، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان پالیسیوں نے یورپ کو مستقل طور پر نقصان پہنچایا۔ یہ تنازعہ یورپی رہنماؤں کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے کہ وہ مہاجرت، انضمام، اور قومی شناخت کے درمیان توازن کیسے قائم کریں۔ مستقبل میں، یورپ کو ان مسائل سے نمٹنے کے لیے زیادہ مربوط اور پائیدار پالیسیوں کی ضرورت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس۔
انڈیگو نے پیر کے روز اعلان کیا کہ ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف)…
بچوں کے جنسی استحصال کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی تنظیم سمادھان ابھیان…
2026 کے نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق پیر کو میڈیسن کے انعام کا اعلان…
مشترکہ پریس بیان میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے…
وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی…
وزیر خزانہ نے ستمبر 2025 میں نافذ کیے گئے شرحوں کو معقول بنانے کے عمل…