واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف سخت پابندیوں سے متعلق ایک نئے قانون کی تیاری نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قانون کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جہاں سینسیکس تقریباً 750 پوائنٹس تک لڑھک گیا جبکہ نفٹی میں بھی 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق مجوزہ قانون بھارت جیسے ممالک کے لیے ایک بڑا اقتصادی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں پیش کیے گئے اس مجوزہ قانون کا نام ”Sanctioning Russia Act 2025“ ہے، جسے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے مشترکہ طور پر تیار کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بل کی حمایت کر دی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے جلد ہی کانگریس میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس بل کا بنیادی مقصد روس پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ یوکرین جنگ کے معاملے میں امن مذاکرات کرے یا جنگی اقدامات سے پیچھے ہٹے۔ بل کی اہم شقوں کے مطابق اگر روس امن بات چیت سے انکار کرتا ہے یا کسی معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو نہ صرف روس بلکہ اس سے توانائی وسائل خریدنے والے ممالک کو بھی سخت سزا دی جا سکتی ہے۔ ان ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو روس سے تیل، گیس یا یورینیم درآمد کرتے ہیں۔ اس فہرست میں بھارت، چین اور برازیل جیسے بڑے ممالک شامل ہو سکتے ہیں، جو روسی توانائی کے اہم خریدار ہیں۔
بھارت کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر تشویشناک ہے کیونکہ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد بھارت نے روس سے سستا خام تیل بڑی مقدار میں خریدا ہے۔ بعض اوقات بھارت کی کل تیل درآمدات کا تقریباً 40 فیصد حصہ روس سے آتا رہا ہے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ اس تیل کی خریداری سے روس کو جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی مدد ملتی ہے۔ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو بھارت کی امریکہ کو برآمدات پر 500 فیصد تک ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، جس سے بھارتی مصنوعات امریکی منڈی میں بے حد مہنگی ہو جائیں گی اور دوطرفہ تجارت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی امریکہ بھارت پر مختلف اشیا پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر چکا ہے۔ اگرچہ بھارت نے حالیہ مہینوں میں روسی تیل کی درآمد میں کچھ کمی کی ہے اور دسمبر میں درآمدات نمایاں طور پر گھٹیں، تاہم اسے مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے بھی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ایک اچھے انسان ہیں، لیکن روسی تیل کی خریداری پر انہیں ناراضگی ہے۔ ٹرمپ کے بقول، ’’مودی جانتے ہیں کہ مجھے خوش رکھنا ضروری ہے، ہم بھارت پر ٹیرف بہت تیزی سے بڑھا سکتے ہیں۔‘‘ سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر ٹرمپ اس بل کی حمایت کر رہے ہیں اور اسے جلد منظوری مل سکتی ہے۔ اس خبر کے اثرات بھارتی شیئر بازار میں فوری طور پر نظر آئے۔ سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر فروخت کی۔ تیل، دھات اور برآمدی شعبوں سے وابستہ کمپنیوں کے شیئرز میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔ عالمی بازاروں میں بھی کمزوری کا رجحان رہا، جس نے بھارتی منڈی پر مزید دباؤ ڈالا۔
ادھر امریکہ میں بھارت پر پہلے سے لگائے گئے ٹیرف کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ اب تک ان ٹیرف کے ذریعے تقریباً 18 ہزار کروڑ روپے وصول کیے جا چکے ہیں۔ اس معاملے پر عدالت کا فیصلہ 9 جنوری کو آنے کی توقع ہے۔ اگر فیصلہ ٹرمپ کے خلاف آتا ہے تو پرانے ٹیرف منسوخ ہو سکتے ہیں، جس سے بھارت کو کچھ راحت مل سکتی ہے، تاہم 500 فیصد نئے مجوزہ ٹیرف کا خطرہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کے لیے یہ ایک نہایت نازک مرحلہ ہے۔ ایک طرف توانائی کی ضروریات کے لیے سستا روسی تیل اہم ہے، تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات اور لاکھوں روزگار کا دارومدار بھی انہی فیصلوں پر ہے۔ آنے والے دنوں میں کانگریس اور سپریم کورٹ کے فیصلے اس پورے معاملے کی سمت طے کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…