بین الاقوامی

Cuba Military Strength: امریکہ جیسی سپر پاور سے جنگ لڑنا کیوبا کے لیے کیوں ہے مشکل؟ کیوبا کی فوجی طاقت کتنی مؤثر؟

ہوانا/واشنگٹن: عالمی سیاست میں جب بھی کسی ممکنہ تصادم کی بات ہوتی ہے تو چھوٹے اور بڑے ممالک کی فوجی طاقت کا تقابل لازمی موضوع بن جاتا ہے۔ اسی تناظر میں کیوبا کی فوجی صلاحیت اور امریکہ جیسی سپر پاور کے مقابلے میں اس کی پوزیشن ایک اہم سوال بن کر سامنے آتی ہے۔ بظاہر کیوبا کے پاس محدود وسائل اور پرانے ہتھیار ہیں، جس کی وجہ سے اس کی حقیقی طاقت پر ابہام برقرار ہے۔ اطلاعات کے مطابق کیوبا کی مسلح افواج میں تقریباً 50 ہزار فعال فوجی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریزرو فورسز اور نیم فوجی دستے بھی موجود ہیں، جو ہنگامی حالات میں خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم، اس کی بڑی حد تک انحصار سوویت دور کے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان پر ہے، جو آج بھی استعمال میں ہیں۔

کیوبا کے ہتھیاروں میں پرانے لڑاکا طیارے، ٹینک اور توپ خانہ شامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر روس اور چین سے حاصل کیے گئے تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان کی تکنیکی اہمیت کم ہو چکی ہے۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی، سائبر صلاحیت اور جدید میزائل سسٹمز کی کمی واضح طور پر محسوس کی جاتی ہے، جو کسی بھی جدید جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ فضائیہ اور بحریہ کے لحاظ سے بھی کیوبا کی صلاحیت محدود ہے۔ فضائیہ کے پاس پرانے مگ طیارے موجود ہیں، جن کی کارکردگی جدید امریکی طیاروں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اسی طرح بحریہ میں چند جہاز اور آبدوزیں شامل ہیں، مگر ان کی ٹیکنالوجی اور طاقت امریکہ کی جدید بحری قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

دوسری جانب امریکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت سمجھا جاتا ہے، جس کے پاس لاکھوں فوجی، جدید ترین ہتھیار، ایٹمی صلاحیت اور جدید دفاعی نظام موجود ہیں۔ دفاعی بجٹ کے لحاظ سے بھی امریکہ کئی گنا آگے ہے، جب کہ کیوبا کا فوجی بجٹ نہایت محدود ہے۔ عالمی فائر پاور انڈیکس 2026 کے مطابق کیوبا کا درجہ 65واں ہے، جو اس کی محدود عسکری حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ کیوبا کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی حیثیت اور عوامی حمایت میں پوشیدہ ہے۔ اگر کسی تنازعہ کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو کیوبا گوریلا جنگی حکمت عملی اور مقامی وسائل پر انحصار کر سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں دیکھا جا چکا ہے۔ مجموعی طور پر کیوبا اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے تو کسی حد تک تیار ہے، لیکن امریکہ جیسی سپر پاور کے خلاف براہ راست جنگ اس کے لیے نہایت مشکل بلکہ تقریباً ناممکن تصور کی جاتی ہے۔ کیوبا کی فوجی طاقت زیادہ تر دفاعی نوعیت کی ہے اور اسے علامتی حیثیت حاصل ہے، نہ کہ جارحانہ۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

2 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago