بین الاقوامی

CSIS Annual Report: ’’خالصتانی شدت پسند کینیڈا کی سرزمین کو بھارت مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں‘‘ کینیڈا کی انٹیلی جنس ایجنسی نے کیا تسلیم

ایک بڑی پیش رفت میں کینیڈا کی مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس (CSIS) نے پہلی بار سرکاری طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ خالصتانی شدت پسند عناصر کینیڈا کی سرزمین کو بھارت میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور تشہیر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

پہلی مرتبہ کینیڈا نے شامل ’خالصتان‘ تحریک کو ’شدت پسندی‘ کے زمرے میں کیا شامل

سی ایس آئی ایس کی تازہ سالانہ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’خالصتانی شدت پسند کینیڈا کو بھارت میں تشدد کے فروغ، فنڈ ریزنگ اور منصوبہ بندی کے مرکز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ یہ انکشاف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت کئی برسوں سے کینیڈا پر زور دے رہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر سرگرم بھارت مخالف عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ تاہم اب خود کینیڈا کی انٹیلی جنس نے ان خدشات کی تصدیق کر دی ہے، جو بھارت طویل عرصے سے ظاہر کرتا آ رہا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے جب کینیڈا نے سرکاری طور پر خالصتان تحریک کو ’’شدت پسندی‘‘ کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1980 کی دہائی کے وسط سے کینیڈا میں سیاسی بنیاد پر پرتشدد شدت پسندی (PMVE) بالخصوص خالصتانی گروپوں کی صورت میں موجود ہے، جو ایک علیحدہ ریاست ’’خالصتان‘‘ کے قیام کے لیے پرتشدد ذرائع اختیار کرنے کے حامی ہیں۔ اگرچہ 2024 میں خالصتان سے منسلک کسی پرتشدد حملے کی اطلاع کینیڈا میں نہیں ملی، تاہم رپورٹ کے مطابق ایسے گروہ اب بھی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور دنیا بھر میں پرتشدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور ان پر عمل درآمد کی کوششوں میں ملوث ہیں۔

حال ہی میں وزیر اعظم مودی اور مارک کارنی نے کی ہے ملاقات

واضح رہے کہ بھارت ماضی میں بارہا کینیڈا پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ خالصتانی علیحدگی پسندوں کو پناہ دے رہا ہے۔ ان الزامات کی بنیاد 1985 کی ایئر انڈیا بم دھماکے اور اس کے بعد بھارت میں ہونے والی خالصتانی دہشت گردی پر رکھی جاتی ہے۔ سی ایس آئی ایس کی رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کے کینیڈین ہم منصب مارک کارنی کی G7 سربراہی اجلاس کے موقع پر پہلی ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے تعلقات میں بہتری کے لیے نئے ہائی کمشنرز کی تقرری اور تعطل کے شکار تجارتی مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کیا۔

دونوں ممالک تعلقات کو از سرِ نو بحال کرنے کے لیے کوشاں

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات 2023 میں برٹش کولمبیا میں خالصتانی علیحدگی پسند ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے بعد خاصے کشیدہ ہو گئے تھے۔ مئی 2024 میں نجار کے قتل میں ملوث چار افراد کو گرفتار کر کے ان پر قتل اور قتل کی سازش کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ بھارت اور کینیڈا کی قیادت نے اب مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ’’باہمی احترام اور حساس معاملات کے ادراک‘‘ کی بنیاد پر ایک متوازن اور تعمیری شراکت داری کی طرف بڑھنے کے خواہاں ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

Ghulam Nabi Azad: سی ای سی گیانیش کمار پر غلام نبی آزاد کا بیان، اپوزیشن کا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ غلط نہیں

غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…

2 minutes ago

Russia support India in UN: بہت ہو چکے مغربی ممالک، روس نے اقوام متحدہ میں بھارت کی ویٹو پاور کی کردی حمایت

روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس…

47 minutes ago

Ganga Expressway Fully Operational: گنگا ایکسپریس وے مکمل طور پر فعال، اناؤ میں ایک ریمپ کے علاوہ کہیں پانی جمع نہیں

موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام…

2 hours ago

Flood situation continues to be grim in Odisha: اڈیشہ میں شدید بارش کے بعد سیلاب کا خطرہ، 70 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

اس دوران محصولات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ آبی ذخیرے…

2 hours ago

Rape of Female Student: پنجاب میں LPU میں طالبہ کے مبینہ ریپ پر طلبہ میں شدید غم و غصہ، رات بھر یونیورسٹی میں توڑ پھوڑ

بتایا جا رہا ہے کہ طالبات کے ہاسٹل کے قریب سے طلبہ کا احتجاج شروع…

3 hours ago