تحریر:ظہور حسین بٹ
امریکہ۔ ہندخلائی تعاون میں ایک نیا مرحلہ تشکیل پا رہا ہے، جو اب پالیسی مکالمے کے بجائے نجی شعبے کی سرگرمیوں سے زیادہ متاثر ہے۔اس تبدیلی کا مشاہدہ بینگالورو میں نمایاں طور پر کیا گیا جہاں دونوں ممالک کے پالیسی ساز، صنعتی رہنما اور کاروباری افراد تجارتی خلائی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیےیکجا ہوئے۔چنئی میں واقع امریکی قونصل خانہ کی میزبانی میں امریکہ۔ہند اسٹریٹجک پارٹنرشپ فورم (یو ایس آئی ایس فی ایف)کے تعاون سے فروری۲۰۲۶ میں منعقد ہونے والے امریکہ ۔ہند خلائی بزنس فورم میں دونوں ملکوں کے ۲۰۰ سے زیادہ سرکاری اور صنعتی نمائندوں نے شرکت کی جس سے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے میںگہری دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔
یہ فورم ہندوستان کے لیے خلائی شعبے کے لیے مختص پہلی امریکی تجارتی مشن کی نمایاں تقریب بھی ثابت ہوا، جسے امریکی محکمۂ تجارت اور بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈرسٹینڈنگ نے منظم کیا، اور جس کے تحت ۱۴ نمایاں امریکی خلائی کمپنیوں کے ۲۳ ایکزیکٹو ہندوستان آئے۔
ہم آہنگی سے عملی اقدام تک
اسٹریٹجک ہم آہنگی سے تجارتی عمل درآمد کی جانب منتقلی کا معاملہ ان افراد کی نظر میں پہلے ہی سے واضح تھا جو اس شراکت داری کے مرکز میں کام کررہے ہیں ۔ قومی سمندری اور ماحولیاتی انتظامیہ کے خلائی تجارت کے دفتر میں بین الاقوامی تعلقات کی ماہر روز کروشیئر، اس فورم کو پالیسی کی رفتار اور صنعت کی تیز رفتار ترقی—دونوں کا ردِعمل قرار دیتی ہیں۔
کروشیئر کہتی ہیں ’’اس فورم کے قیام کی کئی وجوہات تھیں جن میں سے دو سب سے اہم ہیں۔یعنی ہندوستان کے نجی خلائی شعبے کی تیز رفتار ترقی اور امریکہ اور ہندوستان کی قیادت کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی۔‘‘
وہ بتاتی ہیں کہ ہندوستان کی خلائی اسٹارٹ اپ کمپنیاں جن کی تعداد اب ۴۰۰ سے زیادہ ہو چکی ہے، نے ذیلی مدار میں ہونے والی پرواز کا آغاز اور
بہت زیادہ طیفی تفصیل کے ساتھ تصویر بندی جیسے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہی پیش رفت امریکہ کے نجی شعبے کوہندوستان کو ایک مضبوط شراکت دار کے طور پر دیکھنے پر آمادہ کر رہی ہے۔
کروشیئر اس پیش رفت کو وسیع تر ’ٹرسٹ‘ پہل کے تناظر میں دیکھتی ہیں جو اصل میں ’’ حکومتی سطح کے تعاون سے ایک مؤثر تجارتی شراکت داری کی جانب منتقلی‘‘ ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اگر یہ فریم ورک ایک ڈھانچہ فراہم کرتا ہے تو یہ فورم’’ ایک تجارتی محرک کے طور پر کام کرے گا جو پالیسی کی معاون فضا کو صنعت کی عملی سرگرمی اور سرحد پار سرمایہ کاری میں تبدیل کرتا ہے۔‘‘
امریکہ۔ ہند اسٹریٹجک پارٹنر شپ فورم میں ہندوستان کی جانب سے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز نویدیتا مہرا کہتی ہیں کہ امریکہ۔ ہند خلائی تعلقات اب پالیسی مکالمے سے آگے بڑھ کر عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ ‘‘ وہ مزید کہتی ہیں’’ چند سال پہلے تک اس موضوع پر زیادہ تر گفتگو کانفرنس روموں اور مشترکہ بیانات تک محدود تھی مگر آج ہم مشترکہ مہمات ، مشترکہ پلیٹ فارموں اور حقیقی تجارتی شراکت داریوں کی شکل سازی کا مشاہدہ کررہے ہیں۔‘‘
مہرا مزید کہتی ہیں کہ یہ فورم ’’سرمایہ کاری کے مواقع کو کھولنے، تجارتی شمولیت کو وسعت دینے، اور سپلائی چین کے انضمام کو فروغ دینے کے لیے ایک محرک ثابت ہوا ہے، جو دونوں ممالک کے لیے دیرپا معاشی قدر پیدا کرتا ہے۔‘‘
تکمیلی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا
کروشیئر اس ہم آہنگی کو ’’ ایک نئی منڈی‘‘ کے ظہور کے طور پر بیان کرتی ہیں۔وہ امریکی نائب وزیر تجارت ٹیلر جارڈن کے تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتی ہیں :’’ ہم اب صرف دو ایسے ممالک نہیں رہے کن کے خلائی پروگرام متوازی طور پر چل رہے ہوں؛ بلکہ ہم دو ایسےنظام ہیں جو باہم جُڑ کر عالمی خلائی معیشت کی تشکیل کررہے ہیں۔‘‘
امریکہ جدید ٹیکنالوجیوں، وسیع و عریض وینچر کیپیٹل(نئے کاروبار میں لگایا جانے والا سرمایہ) نیٹ ورک، اور ایک بالغ تجارتی خلائیبنیادی ڈھانچہ پیش کرتا ہے۔ جبکہ ہندوستان، ان کے مطابق، معیاری تحقیق، عالمی معیار کی کم لاگت انجینئرنگ، اور تیزی سے وسیع پذیر صنعتی پیداواری ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ اسپیس بزنس فورم جیسی پہل ان کو آپس میں جوڑنے میں مدددیتی ہے ، کیونکہیہ براہِ راست تعاون کے مواقع پیدا کرتے ہیں۔
کروشیئر کاروباری اداروں کے درمیان شراکت داری کے اجلاس کا خاص طور پر ذکر کرتی ہیں جہاں ۱۴ امریکی کمپنیوں کے ایکزیکٹو نے ہندوستان کی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے ساتھ ممکنہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں پر گفتگو کی۔ وہ حکومتِ ہند، خاص طور پر، اسرو اور اِن اسپیس کی شمولیت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ان مباحثوں کو یاد کرتی ہیں جو خلائی تجارت کے لیے ایک ’’ سازگار ماحول‘‘ تشکیل دینے پر مرکوز تھے۔
مہرا صنعت کے نقطۂ نظر سے ایک تکمیلی رائے پیش کرتی ہیں، اور دونوں جانب ’’ حقیقی احساسِ ضرورت‘ ‘ اور بلند عزائم کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ امریکی کمپنیاں ہندوستان کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نجی خلائی نظام کے ساتھ سنجیدہ شمولیت کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ آئی تھیں جب کہ ہندوستانی کمپنیاں بھی بڑھتی ہوئی برآمدی صلاحیت کے ساتھ عالمی سپلائی چین میں شامل ہونے کی متمنی تھیں۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اہم شعبوں میں واضح ہم آہنگی پائی جاتی ہے، جن میں ارتھ آبزرویشن، جیو اسپیشل اینالیٹکس، سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ، اور ڈاؤن اسٹریم ایپلی کیشنز شامل ہیں۔
موقع سے عمل تک
شمولیت میں گہرائی اور گیرائی کے تناظر میں کروشیئر اور مہرا دونوں کاروباری حکمتِ عملی کو ضابطہ جاتی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔
کروشیئر کمپنیوں کو بروقت اقدام کی ترغیب دیتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ’’پالیسی کے مکمل ہونے کا انتظار نہ کریں؛ ابھی سے اپنے تعلقات قائم کرنا شروع کریں۔‘‘
وہ دانشورانہ املاک کے خدشات اور ایکسپورٹ کنٹرول کے اختلافات جیسے چیلنجوں کو تسلیم کرتی ہیں، تاہم ان کے مطابق دونوں حکومتیں اب صنعت کی ضروریات کے لیے زیادہ جواب دہ ہو رہی ہیں۔
مہرا کہتی ہیں’’ جو کمپنیاں اس وقت اعتماد، معیار اور تعلیمی معیارات قائم کرنے میں سرمایہ کاری کریں گی، وہی ابھرتے ہوئے مواقع سے بہتر طور پر فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہوں گی۔ ‘‘ وہ صنعت کی ترقی میں مسلسل ادارہ جاتی شمولیت کے کردار کو بھی نمایاں کرتی ہیں۔ ان کے مطابق سول اسپیس جوائنٹ ورکنگ گروپ جیسے اقدامات دوطرفہ مکالمے کو آگے بڑھا رہے ہیں جب کہ انڈس۔ایکس اور کامپیکٹ جیسے فریم ورک اختراعی روابط کو مضبوط بنانے اور قلیل المدتی تجارتی عمل درآمد میں مدد کے لیے اہم سمجھے جارہے ہیں۔
خلائی معیشت کے مستقبل کی تشکیل
مستقبل کے مد نظر امریکہ۔ ہند خلائی تعاون کا اگلا مرحلہ وسعت ، انضمام اور قابل ِ پیمائش نتائج سے متعین ہوگا۔
کروشیئر کہتی ہیں کہ بامعنی پیش رفت میں’’زیادہ مربوط سپلائی چین؛ ہم آہنگ، واضح اور قابلِ پیش گوئیضوابط؛ اور خلا میں اور زمین پر مشترکہ خلائی بنیادی ڈھانچہ” شامل ہوگا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ کامیابی اس وقت واضح ہوگی جب سرحد پار تعاون اسی رفتار اور کارکردگیکے ساتھ آگے بڑھ سکے گا جیسے ملکی سطح کے اقدامات۔
مہرا اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عالمی خلائی معیشت کا مستقبل حکومتوں اور صنعت کے درمیان ہم آہنگی پر منحصر ہوگا۔ وہ کہتی ہیں: ’’جب حکومتیں اور صنعت ایک ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں، تو پیمانے پر ترقی ممکن ہو جاتی ہے۔‘‘
ان کے خیال میں پیش رفت کی پیمائش اس طور پر کی جاسکتی ہے کہ ہندوستانی کمپنیاں عالمی خلائی سپلائی چین میں کس حد تک گہرائی سے ضم ہو جاتی ہیں اور ٹرسٹ ، کامپیکٹ اور اِنڈس ایکس جیسے فریم ورک کس حد تک عملی طور پر نافذ ہوکر حقیقی نتائج دیتے ہیں جن میں مشترکہ منصوبے ، مشترکہ طور پر تیار کردہ تکنیک اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔
امریکہ۔ ہند خلائی بزنس فورم صرف ہم آہنگی کے ایک لمحے کی عکاسی نہیں کرتا، بلکہ یہ اس تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں ممالک خلائی شعبے میں کس طرح باہم تعامل کر رہے ہیں۔ جیسے جیسے پالیسی فریم ورکس پختہ ہو رہے ہیں اور صنعتی روابط گہرے ہو رہے ہیں، توجہ تیزی سے رفتار، وسعت اور مشترکہ نتائج پر مرکوز ہو رہی ہے۔
حقیقی آزمائش، جیسا کہ کروشیئر اور مہرا دونوں اشارہ کرتی ہیں، اس میں ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے—یعنی خیالات کتنی تیزی سے سرمایہ کاری میں اور شمولیت کتنی جلدی عملی منصوبوں میں تبدیل ہوتی ہے۔ اب یہ رفتار امکانات کے بارے میں نہیں رہی؛ بلکہ اس کا تعلق عمل درآمد سے ہے۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…