نیپال میں فرقہ وارانہ کشیدگی۔
کٹھمنڈو: بھارت کے ہمسایہ ملک نیپال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ جنوبی نیپال کے سرحدی شہر بیرگنج میں حالات کشیدہ ہونے کے بعد مقامی انتظامیہ نے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ یہ شہر بھارت کے رکسول بارڈر سے متصل ہے اور تجارتی و سماجی اعتبار سے نہایت حساس علاقہ مانا جاتا ہے۔
ضلع دھنوشا کی مسجد میں توڑ پھوڑ کا واقعہ
نیپال میں سال 2025 کی جین زی تحریک کے دوران تختہ پلٹ کے بعد اب 5 مارچ 2026 کو عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ ایسے میں حالیہ فرقہ وارانہ واقعات نے سیاسی اور سماجی ماحول کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ ہفتہ کے روز جنوبی ضلع دھنوشا میں واقع ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کا واقعہ سامنے آیا، جس کے بعد حالات تیزی سے بگڑ گئے۔
مسلم طبقے کے لوگوں کا بیرگنج میں احتجاج
مسجد میں توڑ پھوڑ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اتوار کو مسلم طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے بیرگنج میں احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر نذر آتش کیے، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ احتجاج صرف بیرگنج تک محدود نہیں رہا بلکہ دھنوشا ضلع کی کمالا میونسپلٹی سمیت مدھیش کے دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔
ایک ٹک ٹاک ویڈیو سے شروع ہوا پورا تنازع
پولیس کے مطابق، پورا تنازع ایک ٹک ٹاک ویڈیو سے شروع ہوا، جس میں دو مسلم نوجوان مبینہ طور پر ہندوؤں کے بارے میں قابلِ اعتراض باتیں کرتے نظر آئے۔ اس ویڈیو سے ناراض ہندو برادری کے ایک گروہ نے دھنوشا میں واقع مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور آگ لگا دی۔ اس واقعے کے بعد مسلم برادری کی جانب سے احتجاج میں شدت آ گئی۔
بیرگنج شہر کے کچھ حصوں میں کرفیو نافذ
صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے ضلع پرسا کی ضلعی انتظامیہ نے پیر کے روز بیرگنج شہر کے کچھ حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا۔ ضلعی دفتر کی جانب سے جاری حکم کے مطابق، کسی بھی قسم کے میلے، عوامی اجلاس، جلوس یا احتجاجی مظاہرے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ پابندی پیر دوپہر ایک بجے سے نافذ ہوئی اور اگلے احکامات تک جاری رہے گی۔
قانون توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی
کرفیو کے دائرے میں مشرق میں بس پارک، مغرب میں سریسیا برج، شمال میں پاور ہاؤس چوک اور جنوب میں شنکراچاریہ گیٹ تک کا علاقہ شامل ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔
قرآن جلانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں ایک نامعلوم گروہ کو دھنوشا ضلع کے دھنکمالا میونسپلٹی-6، سکھوا مارن کے مسلم اکثریتی علاقے میں واقع مسجد میں توڑ پھوڑ کرتے اور قرآنِ پاک کے ایک نسخے کو نذر آتش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
ویڈیو بنانے والے دو مسلم نوجوان ہوئے گرفتار
دھنوشا ضلع پولیس آفس کے سربراہ اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بشو راج کھڑکا نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے والے دو مسلم نوجوانوں اور مسجد میں توڑ پھوڑ کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دھنوشا ضلع عدالت نے تینوں کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔
دیگر ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے پولیس
انہوں نے مزید بتایا کہ مسجد میں توڑ پھوڑ کے معاملے میں مبینہ طور پر ملوث نو افراد کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں اور پولیس دیگر ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق اب مانسون کمزور پڑ رہا ہے، جس کے باعث بارش میں…
سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…
مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…
پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…
ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…
جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…