قومی

Kalyan Singh’s Birth Anniversary: کلیان سنگھ بھارتیہ جنتا پارٹی کی روح تھے، رام مندر کی تعمیر کے لیے وزیر اعلیٰ کی کرسی تک قربان کر دی: ڈاکٹر دنیش شرما

لکھنؤ: راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا ہے کہ رام جنم بھومی تحریک کے ہیرو اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ بھارتیہ جنتا پارٹی کی اصل روح تھے۔ انہوں نے کہا کہ کلیان سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے بانی رکن ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی دونوں ایسی عظیم شخصیات ہیں جن کی رگ رگ میں بی جے پی اور کنول کی علامت بسی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے یہ بات کلیان سنگھ کی یومِ پیدائش اور ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کے جنم دن کے موقع پر منعقد مختلف تقاریب میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں رہنما راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے نظریات سے سرشار تھے اور بی جے پی کی پالیسی، نظریات اور اقدار کے زندہ مثال تھے۔

انہوں نے رام جنم بھومی تحریک اور کشمیر کے لال چوک میں ترنگا لہرانے کے لیے نکالی گئی ’ایکتا یاترا‘ میں ان لیڈران کے تاریخی کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بابو کلیان سنگھ نے رام کے مندر کی تعمیر کے لیے وزیر اعلیٰ کی کرسی تک قربان کر دی اور ڈھانچہ منہدم ہونے کی پوری ذمہ داری خود قبول کی۔ وہیں ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے بعد کشمیر میں داخل ہو کر لال چوک میں ترنگا لہرا کر ایکتا یاترا کے ذریعے پورے ملک کو جوڑنے کا کام کیا۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کلیان سنگھ کی سیاسی بصیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی ہر اسمبلی سیٹ کا انتخابی حساب کتاب ان کے مشوروں سے طے ہوتا تھا۔ وہ رام پرکاش گپت کو اپنا بڑا بھائی مانتے تھے جبکہ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور کلراج مشرا کو تنظیم کی علامت سمجھتے تھے۔ انہوں نے کبھی جانبداری نہیں کی اور ٹکٹ تقسیم میں ہمیشہ پارٹی کو ترجیح دی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی اور کلیان سنگھ بی جے پی کے بانی اراکین میں شامل رہے اور عوام کے دلوں میں بستے تھے، اسی لیے وہ بار بار عوامی نمائندہ منتخب ہوئے۔ دونوں لیڈران کو ہر ذات اور ہر مذہب کی حمایت حاصل تھی۔ کلیان سنگھ میں سردار ولبھ بھائی پٹیل کی جھلک نظر آتی تھی، جبکہ ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی علم کا خزانہ تھے۔ کلیان سنگھ کی مضبوطی لال کرشن آڈوانی جی جیسی تھی، تو ڈاکٹر جوشی کی فکری گہرائی اور موضوع پر گرفت اٹل بہاری واجپئی جی کی یاد دلاتی تھی۔

ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ یہ وہ سیاستدان تھے جنہیں اقتدار اور حزبِ اختلاف دونوں یکساں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ کلیان سنگھ ایک باصلاحیت منتظم تھے اور وہ تمام لوگ خوش نصیب ہیں جنہیں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

بھارت ایکسپریس۔

Bharat Express

Recent Posts

Indian Shooter Asian Games Gold Medal: راہی سرنوبت: این سی سی سے آغاز، عالمی سطح پر کی تاریخ رقم، ہندوستان کی بنیں گولڈن گرل

36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز،…

4 hours ago

Cuba US Sanctions: کیوبا کے حق میں بھارت کا اہم موقف، امریکی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت میں 130 ممالک نےدیا  ووٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی…

5 hours ago

Diljit Dosanjh Concert: دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے لیے دہلی میٹرو کی خصوصی تیاری، 30 اکتوبر کو رات 12 بجے تک چلیں گی ٹرینیں

جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ’اورا انڈیا ٹور 2026‘ کے دوران 70 ہزار سے زائد…

5 hours ago

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

7 hours ago