بین الاقوامی

Bangladesh Voting Concludes: بنگلہ دیش میں ووٹنگ ختم، متعدد پولنگ بوتھوں پر تشدد، خواتین ایجنٹس کو ہراساں کرنے کے الزامات

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں جمعرات کو 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل ختم ہوگیا۔ سخت سیکیورٹی انتظامات اور عوامی جوش و خروش کے درمیان ملک بھر کی 299 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے، تاہم انتخابی عمل کے دوران کئی پولنگ بوتھوں پر تشدد، بدامنی اور خواتین پولنگ ایجنٹس کو ہراساں کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ ملک کے 42 ہزار 659 پولنگ بوتھوں پر صبح 7:30 بجے سے شام 4:30 بجے تک ووٹنگ جاری رہی۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق شیرپور-3 حلقے میں ایک امیدوار کی موت کے بعد وہاں انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔ 299 نشستوں پر ووٹنگ کے لیے کل 12 کروڑ 72 لاکھ 98 ہزار 522 ووٹرز اہل تھے، جن میں 6 کروڑ 46 لاکھ 20 ہزار 77 مرد، 6 کروڑ 26 لاکھ 77 ہزار 232 خواتین اور 1,213 تھرڈ جینڈر ووٹرز شامل تھے۔ اگر تمام 300 نشستوں کو شامل کیا جائے تو ووٹرز کی مجموعی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 899 بنتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے بنگلہ دیشی میڈیا کو بتایا کہ دوپہر دو بجے تک تقریباً 48 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔ اسی دوران آزاد امیدوار تسنیم زارا نے الزام عائد کیا کہ ڈھاکہ-9 انتخابی حلقے میں کئی مقامات پر خواتین پولنگ ایجنٹس کو ہراساں کیا گیا اور انہیں پولنگ سینٹروں میں داخل ہونے سے روکا گیا۔ تسنیم زارا نے کھلگاؤں ماڈل کالج پولنگ سینٹر کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پولنگ ایجنٹس، خصوصاً خواتین، کو متعدد سینٹروں پر اندر جانے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولنگ بوتھوں پر موجود اہلکار مختلف بہانوں سے خواتین ایجنٹس کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ہماری پولنگ ایجنٹس کو کبھی شناختی کارڈ، کبھی اجازت نامے اور کبھی دیگر وجوہات کا حوالہ دے کر روکا گیا۔ بعض جگہوں پر خواتین ایجنٹس کو ہراساں کیا گیا اور انہیں پولنگ سینٹر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا“۔ تسنیم زارا کے مطابق، پولنگ بوتھوں کے ذمہ دار افسران من مانے اصول بنا کر انتخابی عمل میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ بعض مقامات پر خواتین ایجنٹس کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ کچھ جگہوں پر انہیں مختلف ہدایات دے کر الجھن میں رکھا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بنگلہ دیش کی آزاد خاتون امیدواروں نے شکایات کی تھیں کہ انہیں انتخابی مہم اور ووٹنگ کے دوران کردار کشی، دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ادھر، ووٹنگ کے دوران گوپال گنج اور منشی گنج کے پولنگ بوتھوں پر دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔ مبصرین کے مطابق، تشدد اور الزامات کے باوجود انتخابی عمل کا مکمل ہونا بنگلہ دیش کی جمہوریت کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے، تاہم شفافیت اور خواتین کی شرکت سے متعلق سوالات بدستور برقرار ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

19 minutes ago

Ashok Singhal Birth Centenary: اشوک سنگھل کی جنم صدی پر گونجا ’رام نام‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں سے کیا اپیل

بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…

1 hour ago

Virat Kohli Century: ترواننت پورم میں ’کنگ کوہلی‘ کا طوفان! سنچری جڑ کر ویسٹ انڈیز کو کیا بے حال، ہندوستان نے 8 وکٹ سے ہرایا

 ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…

1 hour ago

Amit Shah Congress Challenge: امت شاہ کی کانگریس کو دوٹوک للکار، کہا- بے بنیاد دعوؤں کے بجائے اعداد و شمار کے ساتھ کریں بات

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…

2 hours ago