ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے اور نئی کابینہ 17 فروری کو حلف اٹھائے گی۔ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے حکومت سازی کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق حکومت نے منتخب ارکان پارلیمان کی فہرست پر مشتمل سرکاری گزٹ پہلے ہی جاری کر دیا ہے۔ اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق آئین کے آرٹیکل 148 کے تحت منتخب نمائندوں کو سرکاری نتائج کے اعلان کے تین دن کے اندر حلف لینا ضروری ہوتا ہے۔ 13ویں قومی انتخابات میں منتخب ارکان منگل کو حلف اٹھائیں گے اور اسی روز نئی کابینہ بھی حلف لے گی۔ الیکشن کمیشن کے سکریٹری اختر احمد نے ہفتہ کے روز پریس بریفنگ میں اس شیڈول کی تصدیق کی۔
طارق رحمان بن سکتے ہیں وزیراعظم
رپورٹس کے مطابق بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان وزیراعظم کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ تجربہ کار رہنماؤں کے ساتھ ساتھ نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ قیادت کو بھی اہم ذمہ داریاں دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ داخلہ، قانون، خزانہ اور خارجہ جیسے اہم قلمدانوں میں سینئر اور نئے رہنماؤں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ بی این پی کے کئی پالیسی سازوں نے اشارہ دیا ہے کہ کابینہ بہت بڑی نہیں ہوگی اور اس میں 32 سے 42 اراکین شامل ہو سکتے ہیں۔ پارٹی چیئرمین طارق رحمان نے کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے سینئر رہنماؤں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ بی این پی کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ کابینہ کی حتمی شکل دیکھنے کے لیے کچھ مزید انتظار کرنا ہوگا۔
ممکنہ وزرا کے نام
* خارجہ وزیر کے لیے بی این پی کے جوائنٹ سیکریٹری جنرل ہمایوں کبیر کا نام زیر غور ہے۔
* وزارت خزانہ کے لیے سابق آئی ایم ایف ماہر معاشیات ڈاکٹر رضا کبریا پر غور کیا جا رہا ہے۔
* وزارت تجارت امیر خسرو محمود چودھری کو دی جا سکتی ہے، جو پہلے بھی یہ ذمہ داری نبھا چکے ہیں۔
* بی این پی کے سکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر کو بلدیات کی وزارت دیے جانے پر غور ہو رہا ہے۔
* سابق اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل محمد اسد الزماں کو وزارت قانون مل سکتی ہے۔
* صلاح الدین احمد کو وزارت داخلہ دی جا سکتی ہے۔
* مرزا عباس کو سڑک ٹرانسپورٹ اور پلوں کی وزارت سونپے جانے کا امکان ہے۔
* صحت کا قلمدان ڈاکٹر اے زیڈ ایم ظاہر حسین جبکہ اطلاعات کی وزارت روح الحق کبیر رضوی کو دی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ نظر الاسلام خان، ڈاکٹر عبدالمعین خان، گائیشور چندر رائے، میجر(ریٹائرڈ) حافظ الدین احمد، اقبال حسن محمود تُکو، سلیمہ رحمان، عندلیب رحمان پارتھو، میزان الرحمٰن مینو اور شمع عبید سمیت دیگر کئی ناموں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
صدر کے عہدے میں تبدیلی کا امکان
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد صدر کے عہدے میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس منصب کے لیے سینئر رہنما ڈاکٹر خنداکر مشرف حسین کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نئی حکومت کی تشکیل بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں تجربہ کار قیادت اور نئی نسل کے رہنماؤں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان، عمران…
ایودھیا رام مندر میں چڑھاوا کی مبینہ چوری کی تحقیقات میں بڑا انکشاف، سالیسٹر جنرل…
پرینکا چترویدی نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا اپنا ذاتی وعدہ پورا، والدین…
اب ملزم کو گرفتاری کی وجہ تحریری طور پر بتانا لازمی، خلاف ورزی پر پولیس…
پنڈھری ناتھ علاقے میں بدریناتھ مندر اور تھانے کے سامنے پیش آیا واقعہ، کوئی جانی…
چنئی سپر کنگز کی جانب سے جاری بیان میں ظہیر خان نے کہا، ’’آئی پی…