قومی

Mutual Fund Expense Ratio: ميوچوئل فنڈ میں ایکسپنس ریشو کیا ہوتا ہے، یہ کیسے کرتا ہے کام؟ جانیے یہ کیسے خراب کر سکتا ہے آپ کے ریٹرن کا کھیل

آج کے دور میں ميوچوئل فنڈ سرمایہ کاری کا ایک مقبول اختیار بن چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی آگاہی اور آسان سرمایہ کاری کے عمل کی وجہ سے لاکھوں نئے سرمایہ کار اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ لیکن ميوچوئل فنڈ میں سرمایہ کاری کرتے وقت صرف ریٹرن دیکھنا کافی نہیں ہے۔ ایک اہم پہلو ہے ‘ایکسپنس ریشو’، جو طویل مدت میں آپ کے کل ریٹرن پر بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔

ایسِٹ مینجمنٹ کمپنی (AMC) ميوچوئل فنڈ اسکیم

در اصل، جب کوئی ایسِٹ مینجمنٹ کمپنی (AMC) ميوچوئل فنڈ اسکیم کو چلاتی ہے، تو اسے کئی طرح کے اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں، جن میں فنڈ مینیجر کی فیس، بروکریج اور ٹرانزیکشن چارجز، انتظامی اخراجات، مارکیٹنگ لاگت، رجسٹرار اور کسٹوڈین فیس، اور آڈٹ چارجز شامل ہیں۔ ان تمام اخراجات کو ملا کر جو کل فیصد بنتا ہے، اسے ٹوٹل ایکسپنس ریشو (TER) کہا جاتا ہے۔ یہ فنڈ کی کل ایسِٹ ویلیو (AUM) کے فیصد کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے اور روزانہ NAV سے کم کیا جاتا ہے۔

مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق، TER نکالنے کے لیے کل اخراجات کو کل ایسِٹ ویلیو سے تقسیم کر کے 100 سے ضرب دیا جاتا ہے۔ یہ فیصد دیکھنے میں چھوٹا لگتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس کا اثر بہت بڑا ہو سکتا ہے۔ SEBI نے ميوچوئل فنڈز کے لیے TER کی زیادہ سے زیادہ حد مقرر کی ہے۔ فنڈ کا سائز جتنا بڑا ہوتا ہے، TER کی حد اتنی کم ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، چھوٹے ایکوئٹی فنڈز پر زیادہ سے زیادہ 2.25 فیصد تک TER لگایا جا سکتا ہے، جبکہ بڑے فنڈز میں یہ تقریباً 1 فیصد رہ جاتی ہے۔ ڈیٹ اور پیسوِو فنڈز میں یہ حد اور بھی کم ہوتی ہے۔

ڈائریکٹ پلان اور ریگولر پلان کیا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم انتخاب ڈائریکٹ پلان اور ریگولر پلان کا ہے۔ ڈائریکٹ پلان میں سرمایہ کار براہِ راست فنڈ ہاؤس سے سرمایہ کاری کرتا ہے، جس سے کمیشن نہیں دینا پڑتا اور TER کم رہتا ہے۔ ریگولر پلان میں ڈسٹریبیوٹر یا ایجنٹ کا کمیشن شامل ہونے سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ فرض کریں 10 لاکھ روپے 30 سال کے لیے 12 فیصد اوسط ریٹرن والے فنڈ میں لگائے جائیں، تو ڈائریکٹ پلان میں یہ رقم تقریباً 3 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن اگر صرف 0.5 فیصد زیادہ اخراجات ہوں، تو آخری رقم لاکھوں روپے کم ہو سکتی ہے۔ یعنی چھوٹا سا اضافی خرچ بھی طویل مدت میں بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔ صرف کم TER والے فنڈ کو منتخب کرنا کافی نہیں ہے۔ سرمایہ کاری سے پہلے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ فنڈ کا پرفارمنس کیسا ہے، رسک لیول کیا ہے، پورٹ فولیو کی کوالٹی کیسی ہے اور فنڈ مینیجر کا تجربہ کیا ہے۔ اس طرح، ایکسپنس ریشو ميوچوئل فنڈ سرمایہ کاری کا ایک اہم حصہ ہے۔ سمجھداری سے انتخاب کرنے پر یہ آپ کے مالیاتی اہداف حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

The street play ‘Athanni’ by the Pratidhvani Theatre Society: سنسکار بھارتی کے کلا سنکُل میں اسٹیج آرٹ سیمینار کا انعقاد، فن اور سماج کے درمیان مکالمے پر زور

سیمینار کی خاص کشش ’اٹھنی‘ نکڑ ناٹک کی پیش کش رہی، جسے پرتدھونی تھیٹر سوسائٹی…

21 minutes ago

تاجروں کی اپیل بے اثر، یکم نومبر کو ہی ہوگی رام لیلا میدان میں انڈیا الائنس کی مہا ریلی، ملیکارجن کھڑگے نے کی یہ بڑی اپیل

کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے کہا کہ یہ صرف ووٹ بچانے کی لڑائی نہیں، بلکہ…

24 minutes ago

Judge’s son in a Mercedes released: جج صاحب کا مرسڈیز چلانے والا نابالغ بیٹا رہا، متوفی کے اہل خانہ نے پولیس پر اٹھائے سوال

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کیرالا ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ…

1 hour ago