بین الاقوامی

Bangladesh incident, US Trump aide Laura Loomer expressing concern: بنگلہ دیش کے واقعے پر امریکہ تک ہلچل، ٹرمپ کی معاون لورا لومر نے کیا تشویش کا اظہار

بنگلہ دیش میں جاری سیاسی تعطل اور ناخوشگوار واقعات  نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ امریکہ کی سیاست میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قریبی ساتھی اور دائیں بازو کی سیاسی کارکن لورا لومر (Laura Loomer) نے کھل کر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اسے محض کسی ایک ملک کی قانون و امن کی صورتحال کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ابھرتی ہوئی انتہاپسندی کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار دیا ہے۔

سیاسی عدم استحکام

بنگلہ دیش میں طویل عرصے سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید کشیدگی ہے۔ انتخابات پر عدم اعتماد، اپوزیشن کی گرفتاریوں اور احتجاجوں نے سیاسی ماحول کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔

ایکس پوسٹ کے ذریعے وارننگ

لورا لومر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بنگلہ دیش میں طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام  پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی اراکین پارلیمنٹ کو خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتہاپسندی اور اس سے متعلق فنڈنگ کے خلاف بروقت سخت قدم نہیں اٹھایا گیا تو اس کے اثرات امریکہ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات مستقبل کے بڑے خطرات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اگر امریکی عوام اور نمائندے اب آواز نہیں اٹھائیں گے تو انتہاپسندانہ فکر مغربی ممالک میں بھی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کچھ بااثر افراد اور میڈیا ادارے جان بوجھ کر ان مسائل کو کم اہم دکھاتے ہیں، جس کی وجہ سے سچائی پوری طرح سامنے نہیں آ پاتی۔ اسی تناظر میں انہوں نے امریکی صحافی ٹکر کارلسن (Tucker Carlson) کا بھی نام لیا۔

پہلے بھی دے چکی ہیں وارننگ

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب لورا لومر نے اس طرح کی تشویش ظاہر کی ہو۔ اس سے قبل بھی وہ امریکہ میں بعض لیڈروں کی انتخابی کامیابیوں کو انتہاپسندی کے بڑھتے اثر و رسوخ سے جوڑ کر خبردار کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ آپریشن سندور کے دوران بھارت کے حق میں بیانات دے کر بھی خبروں میں رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور مغربی میڈیا کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts