بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمنٹ الیکشن کے نتائج آرہے ہیں اوربی این پی کے سربراہ طارق رحمٰن نے زبردست واپسی کی ہے۔ 17 سال بعد ملک لوٹنے کے بعد طارق رحمٰن نے دونوں سیٹوں (ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6) پر جیت حاصل کرلی ہے۔ بنگلہ دیش میں 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت گرنے کے بعد پہلی بارالیکشن ہورہے ہیں۔ اس میں لندن سے آئے طارق رحمٰن وزیراعظم بننے کے اورزیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔
طارق نے دونوں سیٹوں پربڑے فرق سے جیت درج کی
بی این پی میڈیا سیل کے رکن شاعرالکبیرخان نے ڈھاکہ ٹریبیون کوبتایا کہ غیرسرکاری نتائج میں طارق رحمٰن دونوں سیٹوں پرجیت گئے ہیں۔ یہ ان کی سیاسی طاقت کا بڑا اشارہ ہے، کیونکہ وہ وزیراعظم عہدے کے بڑے دعویدار ہیں۔ ڈھاکہ-17 سیٹ (گلشن، باری درہ،بنانی اور کینٹنمنٹ علاقے) میں طارق رحمٰن نے جماعت اسلامی کے امیدوارایس ایم خالق الزماں کوبڑے فرق سے ہرایا۔ بی این پی کا دعویٰ ہے کہ رات 9 بجے تک کے اعدادوشمارمیں طارق کو 60,215 ووٹ ملے، جبکہ ان کے حریف کو 24,524 ووٹ مل سکے۔ بوگورا- 6 سیٹ (بوگرا صدر) میں بھی طارق رحمٰن نے جماعت اسلامی کے امیدوارمحمد عبدالرحمٰن کو دوگنا سے زیادہ ووٹوں سے ہرایا۔ پروتھوم آلوکے مطابق، 27 مراکزکے اعدادوشمارمیں طارق رحمٰن کو 37,465 ووٹ ملے، جبکہ حریف کو 17,428 ووٹ مل سکے۔ بوگورا کی سبھی سات سیٹوں پربی این پی کے امیدوارآگے چل رہے ہیں، جس میں طارق رحمٰن کی سیٹ سب سے مضبوط ہے۔
بی این پی اورجماعت کے درمیان اہم لڑائی
یہ الیکشن 2024 کے طلبا تحریک کے بعد پہلا بڑا الیکشن ہے، جس میں عوامی لیگ (شیخ حسینہ کی پارٹی) الیکشن سے باہرہیں اوررجسٹریشن معطل ہے۔ اہم مقابلہ بی این پی اورجماعت اسلامی کے اتحاد کے درمیان تھا۔ شروعاتی رجحانوں میں بی این پی کئی سیٹوں پرآگے ہے۔ کچھ رپورٹوں میں بی این پی 50 سے زیادہ سیٹوں پرلیڈ کررہی ہے۔ جبکہ جماعت اسلامی 18 پر۔ کل 299 سیٹوں پرووٹنگ ہوئی (ایک سیٹ منسوخ) اورووٹرٹرن آوٹ تقریباً 48 فیصد رہا۔ ساتھ ہی جولائی نیشنل چارٹرپرریفرنڈم بھی ہوا، جس کے نتائج نئی حکومت کوآئین میں بڑی تبدیلی کا اختیار دے سکتے ہیں۔ طارق رحمٰن نے صبح ڈھاکہ کے گلشن ماڈل ہائی اسکول اینڈ کالج میں ووٹ ڈالا، جہاں ان کی اہلیہ ڈاکٹرزبیدہ رحمٰن اوربیٹی جیما رحمٰن بھی ساتھ تھیں۔ ووٹ ڈالنے کے بعد انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے لوگ لمبے وقت سے اس دن کا انتظارکررہے تھے اورانہوں نے اپنے حقوق واپس لے لئے ہیں۔ انہوں نے کچھ مقامات پرناگہانی حادثات کی رپورٹس کا ذکرکیا، لیکن کہا کہ اگربی این پی اقتدارمیں آئی تولا اینڈ آرڈرمضبوط کریں گے۔
طارق رحمٰن اپنی والدہ خالدہ ضیاء کے انتقال کے بعد لوٹے بنگلہ دیش
طارق رحمٰن 2008 سے لندن میں رہ رہے تھے اور دسمبر 2025 میں ماں خالدہ ضیاء کی موت کے بعد واپس لوٹے تھے۔ ان کی جیت بی این پی کو بڑا سیاسی فائدہ دے گی اور حکومت بنانے میں مدد کرے گی۔ الیکشن کمیشن کے باضابطہ نتائج ابھی پوری طرح نہیں آئے ہیں، لیکن غیرسرکاری نتائج سے واضح ہے کہ طارق رحمٰن دونوں سیٹوں پرالیکشن جیت چکے ہیں۔ پورے ملک کے نتائج جمعہ کی صبح تک آنے کی امید ہے۔ بین الاقوامی آبزروروں نے الیکشن کو صاف اورشفاف قراردیا ہے۔ حالانکہ کچھ مقامات پرتشدد کی شکایتیں بھی آئی ہیں۔ یہ الیکشن بنگلہ دیش کی نئی سیاسی سمت طے کرے گا، جہاں بی این پی مضبوط صورتحال میں نظر آرہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…