بین الاقوامی

Bangladesh Earthquake: بنگلادیش میں ریکٹر اسکیل پر زلزلہ کی شدت4.1، لوگ گھروں سے خوف کے مارے باہر نکل آئے

بنگلادیش میں جمعرات (4 دسمبر 2025) کی صبح 4.1 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ اس کا اثر دارالحکومت ڈھاکا سمیت قریب کے اضلاع میں دیکھا گیا۔ صبح تقریباً 6 بج کر 14 منٹ پر آنے والے ہلکے جھٹکوں نے لوگوں کو گھروں سے باہر نکل کر محفوظ مقامات کی جانب دوڑنے پر مجبور کر دیا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ کہیں سے بھی کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یورپی-بحیرۂ روم زلزلہ مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز نرسیگندی ضلع تھا، جو زمین کی سطح سے تقریباً 30 کلومیٹر اندر واقع ہے۔ کم گہرائی کے باعث جھٹکے زیادہ شدید نہیں تھے، اسی لیے کوئی بڑی پریشانی سامنے نہیں آئی۔

ڈھاکا انتظامیہ نے بتایا کہ نہ کسی عمارت میں دراڑ آئی ہے اور نہ کسی شخص کے زخمی ہونے کی خبر ملی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں میں مسلسل ہلکی کمپنے ریکارڈ ہونے سے عوام میں تشویش ضرور پائی جاتی ہے، لیکن اس بار کی صورتحال مکمل طور پر قابو میں رہی۔

ڈھاکا بلند خطرے والے خطے میں واقع

ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ بنگلادیش تین بڑی ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں زلزلوں کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ڈھاکا دنیا کے اُن شہروں میں شمار ہوتا ہے جہاں زلزلے کا رسک مستقل طور پر بلند رہتا ہے۔ پرانے علاقوں میں موجود خستہ حال عمارتیں اس خطرے میں مزید اضافہ کرتی ہیں، کیونکہ ہلکے جھٹکے بھی انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایک ماہ پہلے آئے زلزلے میں 10 ہلاکتیں

لوگوں کی تشویش اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ صرف ایک ماہ پہلے 5.7 شدت کا زلزلہ بنگلادیش کے مختلف علاقوں میں آیا تھا، جس میں 10 افراد کی موت ہوگئی تھی ، جب کہ متعدد گھروں کی دیواروں میں دراڑیں پڑ گئی تھیں۔ ڈھاکا اور نرسیگندی کے درمیانی علاقوں میں اس وقت خاصا نقصان ہوا تھا۔

زلزلوں کی تاریخ رکھنے والا خطہ

یہ علاقہ تاریخی طور پر زلزلوں کے لحاظ سے حساس رہا ہے۔ 1869 سے 1930 کے درمیان یہاں 7.0 سے زائد شدت کے پانچ بڑے زلزلے ریکارڈ کیے گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی کسی شدید زلزلے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت ایکپسریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

10 hours ago