کوئٹہ: حال ہی میں پاکستان کی ایک عدالت نے بلوچ سماجی کارکن مہرنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائی، جس کے بعد دنیا بھر میں اس فیصلے کے خلاف آوازیں بلند کی جا رہی ہیں۔ اس دوران مہرنگ بلوچ کو دوسری بار باوقار نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس نامزدگی کا اعلان کیا۔
یہ اعلان جمعہ کی دیر رات ایسے وقت میں کیا گیا جب چند روز قبل پاکستان کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے فرنٹیئر کور کے ایک افسر کے قتل سے متعلق مقدمے میں مہرنگ بلوچ سمیت چار کارکنوں کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے پر بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی گئی تھی۔
نامزدگی کو اب منظرِ عام پر لانے کی وجہ
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا، ’’یہ نامزدگی جنوری 2026 میں ہوئی تھی، لیکن تنظیم کی پالیسی کے تحت اس وقت اسے عوامی نہیں کیا گیا۔ آج اس حقیقت کو منظرِ عام پر لانا اس لیے ضروری ہے کہ جس شخصیت کو پاکستانی حکومت نے دہشت گردی کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے سزا دینے کی کوشش کی، آج دنیا اسی شخصیت کو امن، انصاف اور انسانی حقوق کی جدوجہد کی علامت کے طور پر تسلیم کر رہی ہے۔‘‘
تنظیم نے کہا کہ مہرنگ بلوچ کا دوسری بار نوبیل امن انعام کے لیے نامزد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جدوجہد مکمل طور پر پرامن، جمہوری اور انسانی حقوق کے اصولوں پر مبنی ہے، جبکہ تنظیم کی قیادت کے خلاف ریاستی کارروائیاں سیاسی انتقام اور جبر کی عکاسی کرتی ہیں۔
بلوچ لیڈران کے خلاف کارروائیوں کا الزام
تنظیم نے الزام لگایا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور فوجی کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھانے والے متعدد بلوچ لیڈران کے خلاف من گھڑت مقدمات، بے بنیاد الزامات اور غیر شفاف عدالتی کارروائیوں کے ذریعے مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق مہرنگ بلوچ اور دیگر لیڈران کی گرفتاری کے بعد بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور فوجی کارروائیوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث عام بلوچ شہریوں کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی برادری سے اپیل
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کی صورتحال پر مؤثر آواز بلند کریں اور مہرنگ بلوچ سمیت دیگر بلوچ لیڈران کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
بلوچ وائس فار جسٹس کا ردعمل
دوسری جانب انسانی حقوق کی ایک اور تنظیم بلوچ وائس فار جسٹس نے کہا کہ مہرنگ بلوچ کا دوسری بار نوبیل امن انعام کے لیے نامزد ہونا نہایت اہم پیش رفت ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا، ’’ایک طرف پاکستانی حکومت سیاسی محرکات پر مبنی مقدمات کے ذریعے انہیں عمر قید کی سزا دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب عالمی برادری انسانی حقوق اور انصاف کے لیے ان کی پُرامن جدوجہد اور عزم کو تسلیم کر رہی ہے۔‘‘
تنظیم نے مزید کہا کہ اس نامزدگی کے بعد بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی سطح پر زیادہ مؤثر مداخلت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے کارکنوں کے تحفظ، پُرامن سرگرمیوں کی وجہ سے جیل میں قید لوگوں کی رہائی اور سزا سے چھوٹ کے کلچر کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جانے چاہییں۔
بھارت ایکسپریس۔
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…