قومی

Bharat Taxi Launch: وزیر داخلہ امت شاہ نے ’بھارت ٹیکسی‘ سروس کا آغاز کر دیا، کہا: ’سارتھیوں‘ کو ملے گا احترام اور ملکیت کا حق

گجرات کے دارالحکومت گاندھی نگر میں ہفتہ کا دن ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے ایک نئی شروعات لے کر آیا۔ مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے یہاں ’بھارت ٹیکسی‘ سروس کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’سہکار سے سمردھی‘ (تعاون سے خوشحالی) کے وژن کو اب نقل و حمل کے شعبے میں بھی عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صرف ایک ٹیکسی سروس نہیں بلکہ ڈرائیوروں کو عزت، بااختیاری اور معاشی استحکام فراہم کرنے والا ایک نیا ماڈل ہے۔

گجرات کے بڑے شہروں میں آغاز

ابتدائی مرحلے میں یہ سروس گجرات کے اہم شہروں، جن میں احمد آباد، سورت اور راجکوٹ شامل ہیں، میں شروع کی گئی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ دو پہیہ گاڑیاں، آٹو رکشا اور چار پہیہ گاڑیاں تینوں اس پلیٹ فارم کا حصہ ہوں گی، تاکہ مختلف ضروریات کے مطابق شہریوں کو سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔امت شاہ نے بتایا کہ اس پلیٹ فارم سے وابستہ تقریباً سات لاکھ ‘سارتھی’ اس نظام کے شریک مالک بھی ہوں گے۔ نجی ایپ پر مبنی ٹیکسی کمپنیوں میں جہاں ڈرائیور صرف خدمات فراہم کرتے ہیں، وہیں ‘بھارت ٹیکسی’ میں انہیں کوآپریٹو ادارے میں شراکت داری حاصل ہوگی۔ یعنی وہ صرف ملازم نہیں بلکہ اس نظام کے باقاعدہ شریکِ مالک ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ماڈل مکمل طور پر تعاون (کوآپریٹو) کے اصول پر مبنی ہے، جس میں شفافیت اور اجتماعی فائدے کو ترجیح دی گئی ہے۔

مسابقتی کمپنیوں پر الزام

وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ بعض مسابقتی کمپنیاں کرایوں میں اچانک کمی کرکے اس نئی سروس کی توسیع میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ‘بھارت ٹیکسی’ اپنے شفاف اور عوام دوست ماڈل پر مضبوطی سے قائم رہے گی۔حکومت کا منصوبہ ہے کہ آئندہ دو برسوں میں اس سروس کو ملک کے 500 سے زائد شہروں اور قصبوں تک توسیع دی جائے۔ اس کے علاوہ 31 جولائی سے پہلے اسے سات بڑے شہروں میں شروع کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

متعدد اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتیں

افتتاحی تقریب کے دوران ’بھارت ٹیکسی‘ نے کئی اہم اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoU) پر بھی دستخط کیے۔ ان میں گجرات میٹرو ریل کارپوریشن، گجرات اسٹیٹ کوآپریٹو بینک، احمد آباد ٹریفک پولیس، سردار ولبھ بھائی پٹیل بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور ویسٹرن ریلوے شامل ہیں۔

تعاون کے ذریعے بااختیار بنانے کا دعویٰ

امت شاہ نے کہا کہ ’بھارت ٹیکسی‘ صرف ایک سفری خدمت نہیں بلکہ تعاون پر مبنی معاشی بااختیاری کا ایک نیا ماڈل ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے ڈرائیوروں کو نہ صرف بہتر آمدنی کے مواقع حاصل ہوں گے بلکہ انہیں انشورنس، قرض کی سہولت اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Tej Pratap tried to enter the house: تیج پرتاپ نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی تھی، پہلی بار سامنے آئیں انوشکا یادو، ڈانڈیا پروگرام میں پہنچیں بیٹی کے ساتھ

انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…

11 minutes ago

A Chill in the Air in Delhi-NCR: دہلی-این سی آر میں سردی نے دی دستک، درجۂ حرارت 6 ڈگری تک گرا، آج بھی ہوگی بارش؟

کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…

46 minutes ago

Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…

2 hours ago

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

11 hours ago