بین الاقوامی

Apple success story: ایک پرانی بس اور کیلکولیٹر فروخت کرکے کھڑی کی گئی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی، دلچسپ ہے ایپل کی شروعات کی یہ کہانی

آج کے دور میں اگر کسی کے ہاتھ میں آئی فون (iPhone) نظر آ جائے تو اسے اسٹیٹس سمبل سمجھا جاتا ہے۔ ایپل آج دنیا کی سب سے قیمتی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اربوں ڈالر کی اس کمپنی کی بنیاد کیسے پڑی؟ یقین مانئے، اس کی شروعات نہ کسی عالی شان دفتر سے ہوئی اور نہ ہی بھاری سرمایہ کاری سے، بلکہ ایک پرانے گیراج، ایک پرانی بس اور ایک سائنسی کیلکولیٹر کو فروخت کرنے کے بعد ہوئی تھی۔

جب جیب خالی تھی مگر خواب بڑے تھے

یہ بات 1970 کی دہائی کی ہے۔ اسٹیو جابز اس وقت محض 20 سال کے تھے اور ان کے پاس ایک ایسا وژن تھا جو دنیا بدلنے والا تھا—’ہر گھر میں اپنا کمپیوٹر‘۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس وژن کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ان کے پاس پیسے نہیں تھے۔ ایپل-1 (Apple-1) کا پروٹوٹائپ تیار کرنے کے لیے پرزے خریدنے تھے، لیکن سرمایہ موجود نہیں تھا۔ایسے میں اسٹیو جابز نے بڑا قدم اٹھایا اور اپنی پسندیدہ ووکس ویگن بس (Volkswagen Bus) فروخت کر دی۔ دوسری طرف ان کے دوست اور شریک بانی اسٹیو ووزنیاک نے اپنا قیمتی پروگرام ایبل کیلکولیٹر HP-65 فروخت کر دیا۔ ان دونوں چیزوں کو فروخت کرکے تقریباً 1,300 ڈالر جمع ہوئے۔ آج کے لحاظ سے یہ رقم کم لگ سکتی ہے، لیکن اسی محدود سرمائے سے ایپل کے پہلے کمپیوٹر کے پرزے خریدے گئے اور یکم اپریل 1976 کو باضابطہ طور پر ایپل کا جنم ہوا۔

’بلو باکس‘ کا دلچسپ قصہ

ایپل کی بنیاد سے پہلے جابز اور ووزنیاک ایک اور انوکھا آلہ تیار کرتے تھے جسے ’بلو باکس‘  کہا جاتا تھا۔ یہ ڈیوائس اس وقت کے ٹیلی فون سسٹم کو ہیک کر لیتی تھی، جس کے ذریعے مفت طویل فاصلے کی کالز کی جا سکتی تھیں۔اگرچہ یہ کام قانونی نہیں تھا، لیکن خود اسٹیو جابز نے ایک انٹرویو میں تسلیم کیا تھا کہ اگر وہ بلو باکس نہ بناتے تو شاید ایپل وجود میں ہی نہ آتی۔ اس تجربے نے انہیں یہ اعتماد دیا کہ وہ پیچیدہ تکنیکی مسائل حل کر سکتے ہیں اور اپنا پروڈکٹ مارکیٹ میں لا سکتے ہیں۔

ایک گیراج سے عالمی برانڈ تک کا سفر

ایپل-1 کے بعد جب ایک مقامی ڈیلر سے 50 ہزار ڈالر کا بڑا آرڈر ملا تو کمپنی کی تقدیر بدل گئی۔ اس کے بعد ایپل-2 آیا، جس نے پرسنل کمپیوٹر کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ اسٹیو جابز کی اپنی بس فروخت کرنے کا فیصلہ محض مجبوری نہیں بلکہ ایک بڑا رسک تھا—اور یہی رسک آج ہمارے ہاتھوں میں آئی فون اور میک بک جیسے جدید گیجٹس کی صورت میں نظر آتا ہے۔ یوں ایک پرانے گیراج سے شروع ہونے والی یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ بڑے خواب، مضبوط عزم اور جدوجہد کے ساتھ محدود وسائل بھی دنیا بدل سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Home Minister Amit Shah: ایشین گیمز 2026، میراتھن میں ساون برنوال نے جیتا سلور، امت شاہ نے کہا – ’کامیابی کی راہ پر اسی طرح دوڑتے رہیں‘

آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…

17 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، بھارتی خواتین رائفل ٹیم نے جیتا سلور، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…

27 minutes ago

Thackeray Brothers Rally Against EC: ایس آئی آر کے خلاف پھر ایک ہوئے راج اور ادھو ٹھاکرے، 4 اکتوبر کو نکالیں گے بڑا احتجاجی مارچ

مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…

2 hours ago