مدراس ہائی کورٹ کے جج جسٹس جی آر سوامی ناتھن کے خلاف مواخذہ (امپیچمنٹ) چلانے کی کوشش کے خلاف ہفتہ کے روز 36 سابق ججوں نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔ سابق ججوں نے اراکین پارلیمنٹ اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اقدام کی کھل کر مذمت کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کی کوششوں کو فروغ دیا گیا تو یہ عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ ثابت ہوگا۔
تنازع کی شروعات کیسے ہوئی؟
دراصل یکم دسمبر کو جسٹس سوامی ناتھن نے ایک فیصلہ سنایا تھا، جس میں کہا گیا کہ ارولمِگھو سبرامنیم سوامی مندر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اوچی پِلّیار منڈپم کے قریب روایتی روشنی کے ساتھ ساتھ دیپاتھون پر بھی چراغ روشن کرے۔ اس عدالتی حکم کے بعد سیاسی اور سماجی سطح پر تنازع کھڑا ہو گیا۔
اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کا نوٹس
9 دسمبر کو ڈی ایم کے کی قیادت میں کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر کو نوٹس دیا، جس میں جسٹس سوامی ناتھن کو عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک لانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس اقدام کے بعد معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا اور اسے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانے لگا۔
سابق ججوں کا سخت بیان
سابق ججوں نے واضح طور پر کہا کہ یہ اُن ججوں کو ڈرانے دھمکانے کی ایک قابل مذمت کوشش ہے، جو سماج کے کسی خاص طبقے کی نظریاتی یا سیاسی توقعات کے مطابق فیصلے نہیں دیتے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایسے اقدامات کو روکا نہ گیا تو مستقبل میں یہ عدالتی نظام کو کمزور کر دیں گے۔
عوام اور اراکین پارلیمنٹ سے اپیل
سابق ججوں نے عوام اور پارلیمنٹ کے اراکین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی کوششوں کے خلاف آواز بلند کریں اور عدلیہ کی آزادی کا تحفظ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ ججوں کو کسی بھی قسم کے دباؤ کے بغیر فیصلے دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے، کیونکہ اسی سے جمہوریت مضبوط رہ سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یوپی اسمبلی انتخابات 2027 سے پہلے کانگریس میں ریاستی صدر کی تبدیلی کی بحث تیز،…
EaseMyTrip بھارت میں ایپل پے کا لانچ پارٹنر بنا، سفر کی بکنگ کے دوران ادائیگی…
اندور میں 2 سے 4 اکتوبر تک بھارتی صحافت میلے کے 18ویں سیزن کا انعقاد،…
ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…
ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت نے ان کی رہائش گاہ…
موہن یادو نے لوگوں سے جنگلی حیات کے محفوظ مسکن اور قدرتی توازن کو برقرار…